سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر: الشعراء 26:200

26:200
كذالك سلكناه في قلوب المجرمين ٢٠٠
كَذَٰلِكَ سَلَكْنَـٰهُ فِى قُلُوبِ ٱلْمُجْرِمِينَ ٢٠٠
كَذٰلِكَ
سَلَكْنٰهُ
فِیْ
قُلُوْبِ
الْمُجْرِمِیْنَ
۟ؕ
اسی طرح ہم نے داخل کردیا ہے اس (انکار) کو مجرموں کے دلوں میں
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 26:198 سے 26:203 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں

قرآن عربی زبان میں آیا اور جس پیغمبر نے اسے پیش کیا اس کی بھی مادری زبان عربی تھی۔ اس بنا پر منکرین کو یہ کہنے کا موقع مل گیا کہ یہ تو خود ان کا اپنا کلام ہے۔ وہ ایک عرب ہیں اس ليے انھوں نے عربی میں ایک قرآن تصنیف کرلیا۔

مگر اعتراض کا یہ انداز خود بتا رہاہے کہ یہ کوئی سنجیدہ اعتراض نہیں ہے۔ اور جو لوگ کسی معاملہ میں سنجیدہ نہ ہوں وہ ہمیشہ کوئی نہ کوئی شوشہ نکال لیتے ہیں۔ مثلاً اگر ایسا کیا جاتا کہ کسی غیر عربی پر یہ عربی قرآن اتار دیا جاتا اور وہ شخص عربی زبان سے ناواقف ہونے کے باوجود عربی قرآن انھیں پڑھ کر سناتا تو وہ فوراًیہ کہہ دیتے کہ ’’کوئی عرب اس کو سکھا جاتاہے‘‘۔

جو لوگ ناحق کی بنیاد پر اپنی زندگی کی عمارت کھڑی کئے ہوئے ہوں ان کے ليے حق کا اعتراف کرنا خود اپنی نفی کے ہم معنی ہوتا ہے۔ ایسے لوگوں کے سامنے جب حق آئے اور وہ ذاتی مصالح کو اہمیت دیتے ہوئے حق کا اعتراف نہ کریں تو انکار کا مزاج ان کی نفسیات میں اس طرح شامل ہوجاتا ہے کہ انھیں دوبارہ اس سے نکلنا نصیب نہیں ہوتا۔