سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر: الشعراء 26:23

26:23
قال فرعون وما رب العالمين ٢٣
قَالَ فِرْعَوْنُ وَمَا رَبُّ ٱلْعَـٰلَمِينَ ٢٣
قَالَ
فِرْعَوْنُ
وَمَا
رَبُّ
الْعٰلَمِیْنَ
۟ؕ
فرعون نے پوچھا کہ یہ رب العا لمین کون ہے
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث

قال فرعون و ما رب العلمین (23)

اس کا خانہ خراب ہو وہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں کہتا ہے کہ رب العالمین کیا ہوتا ہے۔ جس کی طرف سے تم کو رسول بنا کر بھیجا گیا ہے۔ یہ اس انداز کا سوال ہے کہ گویا وہ رب العالمین کے بارے میں کچھ جانتا ہی نہیں لیکن یہ غرور کا ایک انداز ہے۔ وہ گویا حضرت موسیٰ کے دعویٰ کو ایک عجیب و غریب دعویٰ تصور کر کے اسے ناممکن الوقوع تصور کرتا ہے اور یہ تاثر قائم کرتا ہے کہ ایسے دعویٰ پر تو بات کرنا بھی فضول ہے۔

موسیٰ (علیہ السلام) اس طرح جواب دیتے ہیں کہ رب العالمین وہ ہے جس کی الوہیت تمام دکھائی دینے والی کائنات پر مشتمل ہے۔ زمین و آسمان اور ان کے درمیان کی تمام چیزوں کا رب۔