سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر: الشعراء 26:29

26:29
قال لين اتخذت الاها غيري لاجعلنك من المسجونين ٢٩
قَالَ لَئِنِ ٱتَّخَذْتَ إِلَـٰهًا غَيْرِى لَأَجْعَلَنَّكَ مِنَ ٱلْمَسْجُونِينَ ٢٩
قَالَ
لَىِٕنِ
اتَّخَذْتَ
اِلٰهًا
غَیْرِیْ
لَاَجْعَلَنَّكَ
مِنَ
الْمَسْجُوْنِیْنَ
۟
اس نے کہا کہ اگر تم نے میرے سوا کسی اور کو معبود مانا تو میں تمہیں قیدیوں میں داخل کر دوں گا
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث

قال لئن اتخذت الھا غیری لاجعلنک من المسجونین (29)

یہ ہے سرکشوں کی دل یل اور حجت۔ یہ کہ تمہیں جیل میں ڈال دیا جائے گا۔ جیل تو تیار ہے اور دور بھی نہیں ہے اور نہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ جب سرکش عاجز آجاتے ہیں اور جب ان کو احساس ہوجاتا ہے کہ ان کا موقف تو سچائی کے مقابلے میں کمزور پڑ رہا ہے کیونکہ سچائی ہمیشہ جارح ہوتی ہے تو پھر لاجواب سرکشوں کا قدیم زمانے سے یہ آخری ہتھیار ہوتا ہے ۔ اور آج تک یہ آخری ہتھیار استعمال ہوتا ہے۔

لیکن حضرت موسیٰ حوصلہ نہیں ہارتے۔ آخر وہ رسول برحق ہیں۔ ان کے اور ان کے بھائی کے ساتھ ، اللہ بھی کھڑا ہے اور دیکھ رہا ہے چناچہ فرعون جس بحث کا سلسلہ ختم کرنا چاہتا تھا حضرت موسیٰ اس کا دوسرا باب کھول دیتے ہیں۔ آپ ایک نئے موضوع پر سوال کردیتے ہیں۔ ایک نیا استدلال