سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر: الشعراء 26:5

26:5
وما ياتيهم من ذكر من الرحمان محدث الا كانوا عنه معرضين ٥
وَمَا يَأْتِيهِم مِّن ذِكْرٍۢ مِّنَ ٱلرَّحْمَـٰنِ مُحْدَثٍ إِلَّا كَانُوا۟ عَنْهُ مُعْرِضِينَ ٥
وَمَا
یَاْتِیْهِمْ
مِّنْ
ذِكْرٍ
مِّنَ
الرَّحْمٰنِ
مُحْدَثٍ
اِلَّا
كَانُوْا
عَنْهُ
مُعْرِضِیْنَ
۟
اور ان کے پاس رحمن کی طرف سے کوئی نئی نصیحت نہیں آتی مگر یہ لوگ اس سے اعراض کرنے والے ہی ہوتے ہیں
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث

یہاں اللہ کے ناموں میں سے رحمٰن کو لایا گیا ہے ، اشارہ اس طرف ہے کہ یہ کتاب اور یہ نصیحت نازل کر کے اللہ نے مخلوق پر بہت بڑی رحمت کی ہے اور اس رحمت سے وہ منہ موڑ رہے ہیں۔ تو ظاہر ہے کہ ان کا یہ فعل بہت ہی قبیح اور شفیع ہے۔ آسمانوں سے ان پر رحمت کا نزول ہو رہا ہے اور وہ اس سے بھاگ رہے ہیں۔ وہ اپنے آپ کو اللہ کی چیز سے محروم کر رہے ہیں جس کے وہ فی الحقیقت بہت ہی محتاج ہیں۔

اس لئے ان کے اس اعراض پر اللہ کی طرف سے بہت ہی سخت تہدید نازل ہوتی ہے کہ اللہ کا عذاب ان کے لئے منتظر ہے۔ بہت جلد یہ لوگ اس سے دوچار ہوں گے۔