سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر: الشعراء 26:70

26:70
اذ قال لابيه وقومه ما تعبدون ٧٠
إِذْ قَالَ لِأَبِيهِ وَقَوْمِهِۦ مَا تَعْبُدُونَ ٧٠
اِذْ
قَالَ
لِاَبِیْهِ
وَقَوْمِهٖ
مَا
تَعْبُدُوْنَ
۟
جب اس ؑ نے اپنے والد اور اپنی قوم سے کہا کہ تم لوگ یہ کن کو پوجتے ہو
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 26:69 سے 26:70 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں

درس نمبر 163 تشریح آیات

69……تا……104

واتل علیھم نبا ……ماتعبدون (70)

ان کے سامنے حضرت ابراہیم کا قصہ پیش کرو۔ یہ سمجھتے ہیں کہ ہم ابراہیم کے وارث ہیں اور ابراہیم (علیہ السلام) کے دین پر ہیں۔ ان کو بتائو کہ ابراہیم کے والد بھی توبت پرست تھے اور انہوں نے تو والد کے فعل بت پرستی پر سخت مواخذہ کیا تھا۔ پھر تم بت پرست کس طرح بن گئے۔ وہ تو بت پرستی اور شرک کے مسئلے پر ہی اپنے والد اور قوم سے ٹکرا گئے۔ انہوں نے والد اور قوم کو صاف صاف بتا دیا تھا کہ بت پرستی کھلی گمراہی ہے کس قدر سخت لہجے میں ماتعبدون (26 : 80) ” یہ کیا چیزیں ہیں جنہیں تم پوجتے ہو۔ “