سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر: الشعراء 26:71

26:71
قالوا نعبد اصناما فنظل لها عاكفين ٧١
قَالُوا۟ نَعْبُدُ أَصْنَامًۭا فَنَظَلُّ لَهَا عَـٰكِفِينَ ٧١
قَالُوْا
نَعْبُدُ
اَصْنَامًا
فَنَظَلُّ
لَهَا
عٰكِفِیْنَ
۟
انہوں نے جواب دیا کہ ہم بتوں کو پوجتے ہیں اور انہی کے سامنے گیان دھیان میں بیٹھے رہتے ہیں
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث

قالوا نعبد اصناماً فنظل لھا عکفین (71)

یہ لوگ اپنے بتوں کو اللہ کہتے تھے لیکن قرآن کریم نے ان کی زبانی ان کے لئے اصنام کا لفظ بھی نقل کیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس بات کو تسلیم کرتے تھے کہ یہ بت پتھروں سے گھڑے ہوئے ہیں لیکن اس کے باوجود یہ لوگ ان بتوں کی عبادت اور تعظیم میں لگے ہوئے ہیں اور یہ ان کے عقائد کی ایک عام کمزوری تھی لیکن جب عقائد نور خیالات بگڑ جاتے ہیں ، تو پھر جن لوگوں نے ان بگڑے ہوئے عقائد کو سینے سے لگا لیا ہوتا ہے وہ سمجھ نہیں سکتے کہ ان کا یہ رویہ ان کو کس قدر ذلتوں اور کس قر پستیوں تک گرا رہا ہے۔

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ان کے غافل دلوں کو جگاتے ہیں ، ان کی عقل سے اپیل کرتے ہیں کہ تم دیکھتے نہیں ہو کہ کس حد تک تم گر گئے ہو اور کیا کیا حماقتوں کو سینے سے لگائے ہوئے ہو۔ بغیر سوچنے اور سمجھنے کے۔