سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر: التوبة 9:20

9:20
الذين امنوا وهاجروا وجاهدوا في سبيل الله باموالهم وانفسهم اعظم درجة عند الله واولايك هم الفايزون ٢٠
ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَهَاجَرُوا۟ وَجَـٰهَدُوا۟ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ بِأَمْوَٰلِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ أَعْظَمُ دَرَجَةً عِندَ ٱللَّهِ ۚ وَأُو۟لَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلْفَآئِزُونَ ٢٠
اَلَّذِیْنَ
اٰمَنُوْا
وَهَاجَرُوْا
وَجٰهَدُوْا
فِیْ
سَبِیْلِ
اللّٰهِ
بِاَمْوَالِهِمْ
وَاَنْفُسِهِمْ ۙ
اَعْظَمُ
دَرَجَةً
عِنْدَ
اللّٰهِ ؕ
وَاُولٰٓىِٕكَ
هُمُ
الْفَآىِٕزُوْنَ
۟
وہ لوگ جو ایمان لائے جنہوں نے ہجرت کی اور جہاد کیا اللہ کی راہ میں اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے ساتھ ان کا بہت عظیم رتبہ ہے اللہ کے نزدیک اور وہی لوگ ہیں کامیاب ہونے والے
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 9:20 سے 9:22 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں

20 ۔ 22: یہ مضمون اب اس بات پر ختم ہوتا ہے کہ مومنین ، مہاجرین اور مجاہدین بلند مرتبہ لوگ ہیں۔ اللہ کی رحمت اور رضامندی ان کے انتظار میں ہے اور ان کے لیے جنت میں نعیم مقیم ہے۔ اور اس کے علاوہ اجر عظیم بھی ہے۔

اس آیت میں افضل تفضیل کے صیغے استعمال ہوئے ہیں اعظم درجۃ ، اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ دوسرے لوگوں کے درجے اسفل ہیں بلکہ اس سے مطلق فضیلت مراد ہے کیونکہ ان لوگوں کے بالمقابل وہ لوگ جن کے اعمال اکارت گئے اور جہنم میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ لہذا ایسے لوگوں کے درمیان اعمال و درجات کا کوئی تناسب نہیں ہے۔ ایک طرف کافر ہیں اور دوسری جانب مومنین مہاجرین اور مجاہدین ہیں جو اعلی درجوں میں اور دائمی نعمتوں میں ہوں گے۔