سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر: التوبة 9:48

9:48
لقد ابتغوا الفتنة من قبل وقلبوا لك الامور حتى جاء الحق وظهر امر الله وهم كارهون ٤٨
لَقَدِ ٱبْتَغَوُا۟ ٱلْفِتْنَةَ مِن قَبْلُ وَقَلَّبُوا۟ لَكَ ٱلْأُمُورَ حَتَّىٰ جَآءَ ٱلْحَقُّ وَظَهَرَ أَمْرُ ٱللَّهِ وَهُمْ كَـٰرِهُونَ ٤٨
لَقَدِ
ابْتَغَوُا
الْفِتْنَةَ
مِنْ
قَبْلُ
وَقَلَّبُوْا
لَكَ
الْاُمُوْرَ
حَتّٰی
جَآءَ
الْحَقُّ
وَظَهَرَ
اَمْرُ
اللّٰهِ
وَهُمْ
كٰرِهُوْنَ
۟
یہ پہلے بھی فتنہ اٹھاتے رہے ہیں اور (اے نبی ﷺ !) آپ کے لیے معاملات کو الٹ پلٹ کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں یہاں تک کہ حق آگیا اور اللہ کا امر غالب ہوگیا اور انہیں یہ پسند نہیں تھا
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث

یہ واقعہ اس وقت ہوا جب حضور ﷺ عوامی تائید کے ذریعے مدینہ تشریف لائے اور حالات یہ تھے کہ ابھی تک انہیں اپنے دشمنوں پر فیصلہ کن غلبہ حاصل نہ ہوا تھا اور مدینہ میں جب حضور کو کامیابی نصیب ہوتی رہیں تو ان اعداء نے بھی سر جھکا دئیے لیکن دل سے وہ تحریک جدید کو بدستور ناپسند کرتے رہے اور انتظار کرتے رہے کہ اسلام پر کوئی برا وقت آئے اور انہیں ریشہ دوانیوں کا موقع ملے۔