سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر: التوبة 9:89

9:89
اعد الله لهم جنات تجري من تحتها الانهار خالدين فيها ذالك الفوز العظيم ٨٩
أَعَدَّ ٱللَّهُ لَهُمْ جَنَّـٰتٍۢ تَجْرِى مِن تَحْتِهَا ٱلْأَنْهَـٰرُ خَـٰلِدِينَ فِيهَا ۚ ذَٰلِكَ ٱلْفَوْزُ ٱلْعَظِيمُ ٨٩
اَعَدَّ
اللّٰهُ
لَهُمْ
جَنّٰتٍ
تَجْرِیْ
مِنْ
تَحْتِهَا
الْاَنْهٰرُ
خٰلِدِیْنَ
فِیْهَا ؕ
ذٰلِكَ
الْفَوْزُ
الْعَظِیْمُ
۟۠
اللہ نے ان کے لیے باغات تیار کر رکھے ہیں جن کے دامن میں (یا جن کے نیچے) ندیاں بہتی ہوں گی جن میں وہ ہمیشہ ہمیش رہیں گے۔ یہی ہے بہت بڑی کامیابی
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 9:86 سے 9:89 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں

The expression: اُولُوا الطَّولِ (ulu 'at-caul: translated as ` the capable ones' ) (86) is not for particularization. Instead, it serves a purpose. It tells that there were others too, the ones not so capable. And the incapable ones had, at least, some obvious excuse to stay behind.