سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر: الطور 52:30

52:30
ام يقولون شاعر نتربص به ريب المنون ٣٠
أَمْ يَقُولُونَ شَاعِرٌۭ نَّتَرَبَّصُ بِهِۦ رَيْبَ ٱلْمَنُونِ ٣٠
اَمْ
یَقُوْلُوْنَ
شَاعِرٌ
نَّتَرَبَّصُ
بِهٖ
رَیْبَ
الْمَنُوْنِ
۟
کیا ان کا کہنا ہے کہ یہ ایک شاعر ہے جس کے لیے ہم منتظر ہیں گردش زمانہ کے ؟
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث

ام یقولون ........ المنون (25 : 03) ” کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ یہ شاعر ہے جس کے حق میں ہم گردش ایام کا انتظار کررہے ہیں “ انہوں نے یہ بات کہی تھی۔ وہ ایک دوسرے کو یوں تسلی دیتے تھے یعنی اس تحریک کے مقابلے میں صبر کرو اور اپنے دین پر ثابت قدم رہو۔ اپنے وقت پر یہ شخص مر جائے گا۔ یوں ہماری جان چھوٹ جائے گی۔ ایک دوسرے کو کہتے کہ صبر کرو کہ یہ مرجائے۔ یہی وجہ ہے کہ حضور ﷺ سے کہا جاتا ہے کہ آپ ان کو ذرا دھمکی آمیز انداز میں کہہ دیں اچھا۔