سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر: الزخرف 43:40

43:40
افانت تسمع الصم او تهدي العمي ومن كان في ضلال مبين ٤٠
أَفَأَنتَ تُسْمِعُ ٱلصُّمَّ أَوْ تَهْدِى ٱلْعُمْىَ وَمَن كَانَ فِى ضَلَـٰلٍۢ مُّبِينٍۢ ٤٠
اَفَاَنْتَ
تُسْمِعُ
الصُّمَّ
اَوْ
تَهْدِی
الْعُمْیَ
وَمَنْ
كَانَ
فِیْ
ضَلٰلٍ
مُّبِیْنٍ
۟
تو (اے نبی ﷺ !) کیا آپ بہروں کو سنائیں گے یا آپ اندھوں کو راہ دکھائیں گے اور ان کو جو کھلی گمراہی میں مبتلا ہیں
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 43:40 سے 43:45 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں

آنكھ والا اپني آنكھ كو بند كرلے تو اس كو كچھ دكھائي نهيں دے گا۔ كان والا اپنے كان كو بند كرلے تو اس كو كچھ سنائي نهيں دے گا۔ اسي طرح جو شخص اپني عقل كو استعمال نه كرے، وه عقل كو معطل كركے اپني خواهش كے رخ پر چلنے لگے تو ايسے شخص كو سمجھانا بجھانا بالكل بے كار هوتاهے۔ سمجھنے كا كام عقل كے ذريعه هوتاهے اور اپني عقل كے اوپر اس نے اپني خواهشات كا پرده ڈال ركھا هے۔ تاهم مدعو كا رويه خواه كچھ بھي هو، داعي كو اپنا دعوتي كام هر حال ميں جاري ركھنا هے، يهاں تك كه اتمام حجت كے مرحلے تك پهنچ جائے۔

حق كا داعي اگر چه ايك انسان هوتا هے مگر حق كا معامله خدا كا معامله هے۔ آدمي حق كے داعي كا انكار كركے سمجھتا هے كه وه حق كي زد سے بچ گيا۔ حالانكه عين اسي وقت وه خداكي زد ميں آجاتا هے۔ آدمي اگر اس راز كو جانے تو وه حق كے داعي كو نظر انداز كرتے هوئے كانپ اٹھے گا۔ كيونكه وه جانے گا كه حق كے داعي كو نظر انداز كرنا خود حق كو نظر انداز كرنا هے اور حق كو نظر انداز كرنا خدا كو نظر انداز كرنا هے۔