سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر: الزخرف 43:63

43:63
ولما جاء عيسى بالبينات قال قد جيتكم بالحكمة ولابين لكم بعض الذي تختلفون فيه فاتقوا الله واطيعون ٦٣
وَلَمَّا جَآءَ عِيسَىٰ بِٱلْبَيِّنَـٰتِ قَالَ قَدْ جِئْتُكُم بِٱلْحِكْمَةِ وَلِأُبَيِّنَ لَكُم بَعْضَ ٱلَّذِى تَخْتَلِفُونَ فِيهِ ۖ فَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ وَأَطِيعُونِ ٦٣
وَلَمَّا
جَآءَ
عِیْسٰی
بِالْبَیِّنٰتِ
قَالَ
قَدْ
جِئْتُكُمْ
بِالْحِكْمَةِ
وَلِاُبَیِّنَ
لَكُمْ
بَعْضَ
الَّذِیْ
تَخْتَلِفُوْنَ
فِیْهِ ۚ
فَاتَّقُوا
اللّٰهَ
وَاَطِیْعُوْنِ
۟
اور جب آئے عیسیٰ ؑ ٰ واضح نشانیاں لے کر تو انہوں نے کہا کہ میں تمہارے پاس حکمت لے کر آیا ہوں اور تاکہ میں واضح کردوں تمہارے لیے بعض وہ چیزیں جن میں تم اختلاف کر رہے ہو پس تم اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور میری اطاعت کرو
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 43:63 سے 43:66 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں

وَلِأُبَيِّنَ لَكُم بَعْضَ الَّذِي تَخْتَلِفُونَ فِيهِ (and to explain to you some of those matters in which you differ...43:63) Since Bana Isra'il were drowned in arrogance and obstinacy, they had tampered with the Divine laws. Sayyidna ` Isa (علیہ السلام) disclosed the reality of such distortions. The words 'some matters' are used because some other matters were purely of mundane nature. He might have not felt the need to deal with those differences. (Bayan-ul-Qur an).