سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر: الزمر 39:61

39:61
وينجي الله الذين اتقوا بمفازتهم لا يمسهم السوء ولا هم يحزنون ٦١
وَيُنَجِّى ٱللَّهُ ٱلَّذِينَ ٱتَّقَوْا۟ بِمَفَازَتِهِمْ لَا يَمَسُّهُمُ ٱلسُّوٓءُ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ ٦١
وَیُنَجِّی
اللّٰهُ
الَّذِیْنَ
اتَّقَوْا
بِمَفَازَتِهِمْ ؗ
لَا
یَمَسُّهُمُ
السُّوْٓءُ
وَلَا
هُمْ
یَحْزَنُوْنَ
۟
اور اللہ نجات دے گا ان لوگوں کو جنہوں نے تقویٰ کی روش اختیار کی تھی (اور انہیں پہنچا دے گا) ان کی کامیابی کی جگہوں پر نہ ان کو کوئی تکلیف چھو سکے گی اور نہ ہی وہ غمگین ہوں گے
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 39:60 سے 39:61 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں

آیت نمبر 60 تا 61

یہ ہے آخری انجام ، ایک گروہ ہے کہ شرمندگی کی وجہ سے اس کا چہرہ سیاہ ہے۔ نیز غم کی وجہ سے اور جہنم کی شعلوں کی وجہ سے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو زمین میں اپنے آپ کو بہت ہی بڑا سمجھتے تھے۔ ان کو رات اور دن اللہ کی دعوت دی جاتی تھی۔ یہ دعوت اس وقت بھی برقرار تھی جب یہ گناہوں میں گردن تک ڈوبے ہوئے تھے لیکن انہوں نے داعی کی پکار پر کان نہ دھرا۔ آج یہ گروہ بہت ہی شرمندہ ہے۔ شرمندگی اور کبیدگی کی وجہ سے اس کا چہرہ سیاہ ہے اور دوسرا فریق نجات پاچکا ہے ، کامیاب ہوگیا ہے۔ اب اسی کوئی گزند پہنچنے کا امکان ہی باقی نہیں رہا ۔ نہ اسے کوئی پریشانی لاحق ہوگی۔ یہ میقین کا فریق ہے جو دنیا میں اس طرح زندہ رہے کہ آخرت سے ڈرتے رہے اور اللہ کی رحمت کے امیدوار رہے۔ آج وہ نجات ' کامیابی ' امن اور سلامتی میں ہیں۔

لایمسھم۔۔۔ یحزنون (39: 61) ” ان کو اب کوئی گزند نہ پہنچے گا اور نہ وہ غمگین ہوں گے “۔ اس صورت حال کے بعد اب جو چاہے داعی حق کی پکار پر لبیک کہے اور اللہ کی تروتازہ رحمت اور جنت میں داخل ہوجائے ۔ یہ رحمتیں اور یہ توبہ کے دروازے کے ساتھ موجود ہیں۔ دروازہ کھلا ہے۔ چھوڑ دو اپنا اسراف ، چھوڑو بےراہ روی اور ترک کرو فسق وفجور ، قبل اس کے کہ تمہیں عذاب الہٰی آلے اور تمہیں اس کا شعور ہی نہ ہو۔