سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر: الشعراء 26:167

26:167
قالوا لين لم تنته يا لوط لتكونن من المخرجين ١٦٧
قَالُوا۟ لَئِن لَّمْ تَنتَهِ يَـٰلُوطُ لَتَكُونَنَّ مِنَ ٱلْمُخْرَجِينَ ١٦٧
قَالُوْا
لَىِٕنْ
لَّمْ
تَنْتَهِ
یٰلُوْطُ
لَتَكُوْنَنَّ
مِنَ
الْمُخْرَجِیْنَ
۟
انہوں نے کہا کہ اے لوط ! اگر تم باز نہ آئے تو یہاں سے نکال باہر کیے جاؤ گے
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 26:167 سے 26:175 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں

بحیرۂ مردار (Dead Sea)کے جنوب اور مشرق کا علاقہ آج ویران حالت میں نظر آتا ہے۔ مگر 1900-2300 ق م کے زمانہ میں وہ نہایت سرسبز علاقہ تھا۔ قوم لوط اسی علاقہ میں آباد تھی۔ حضرت لوط کی مسلسل تبلیغ کے باوجود انھوں نے اپنی اصلاح نہیں کی حتی کہ وہ آپ کو قتل کرنے کے درپے ہوگئے۔ اس وقت انھیں زبردست زلزلہ کے ذریعہ ہلاک کردیا گیا۔ اس برباد شدہ علاقہ کا ایک حصہ بحر مردار کے نیچے دفن ہے اور ایک حصہ کھنڈر بناہواپڑا ہے۔ یہ واقعہ اب سے چار ہزار سال پہلے پیش آیا۔

حضرت لوط کی بیوی اپنے آپ کو قومی روایات سے اوپر نہ اٹھا سکی۔ وہ پیغمبر کی بیوی ہونے کے باوجود اپنے قومی مذہب کی وفادار بنی رہی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ جب خدا کا عذاب آیا تو وہ بھی عام منکرین کے ساتھ ہلاک کردی گئی۔