سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر: فاطر 35:35

35:35
الذي احلنا دار المقامة من فضله لا يمسنا فيها نصب ولا يمسنا فيها لغوب ٣٥
ٱلَّذِىٓ أَحَلَّنَا دَارَ ٱلْمُقَامَةِ مِن فَضْلِهِۦ لَا يَمَسُّنَا فِيهَا نَصَبٌۭ وَلَا يَمَسُّنَا فِيهَا لُغُوبٌۭ ٣٥
لَّذِیْۤ
اَحَلَّنَا
دَارَ
الْمُقَامَةِ
مِنْ
فَضْلِهٖ ۚ
لَا
یَمَسُّنَا
فِیْهَا
نَصَبٌ
وَّلَا
یَمَسُّنَا
فِیْهَا
لُغُوْبٌ
۟
جس نے ہمیں ہمیشہ آباد رہنے والے گھر میں لااتارا ہے اپنے خاص فضل سے اب ہمیں اس میں نہ تو کوئی مشقت جھیلنی پڑے گی اور نہ ہی اس میں ہمیں کوئی تکان لاحق ہوگی
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث

الذی احلنا دار المقامہ (35: 35) ” جس نے ہمیں اپنے فضل سے ابدی قیام کی جگہ ٹھہرایا “۔ ہمیشہ کیلئے رہائش پذیر کردیا اور مستقلاً ہم آباد ہوگئے۔ یہ کام اس نے اپنے فضل و کرم سے کیا کیونکہ ہم اپنے اعمال کے بل بوتے پر تو مستحق نہ تھے۔ یہ تو فضل تھا ہمیں کوئی مشقت پیش آتی ہے اور نہ تکان لاحق ہوتی ہے۔ بلکہ راحت ، اطمینان اور ہر قسم کی نعمتیں جمع ہیں۔

پوری فضا آرام ، راحت اور نعمتوں سے مالا مال ہے۔ اور اس نرم و نازک اور پر لطف ماحول کے لیے اللہ نے الفاظ بھی نہایت ہی نرم و نازک چنے ہیں۔ یہاں تک کہ لفظ حزن کو بھی یہاں حزن کہہ کر نرم و نازک کردیا گیا ہے اور جنت کے لیے دار المقامہ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ تکان اور مشقت کے بارے میں یہ کہا گیا کہ وہ چھو کر بھی نہ جاسکے گی۔ اور الفاظ اور فقروں کا ترنم اپنی جگہ نہایت ہی فرحت بخش ہے۔ نہایت ہی دھیمی موسیقی کی طرح ۔