سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر: فاطر 35:42

35:42
واقسموا بالله جهد ايمانهم لين جاءهم نذير ليكونن اهدى من احدى الامم فلما جاءهم نذير ما زادهم الا نفورا ٤٢
وَأَقْسَمُوا۟ بِٱللَّهِ جَهْدَ أَيْمَـٰنِهِمْ لَئِن جَآءَهُمْ نَذِيرٌۭ لَّيَكُونُنَّ أَهْدَىٰ مِنْ إِحْدَى ٱلْأُمَمِ ۖ فَلَمَّا جَآءَهُمْ نَذِيرٌۭ مَّا زَادَهُمْ إِلَّا نُفُورًا ٤٢
وَاَقْسَمُوْا
بِاللّٰهِ
جَهْدَ
اَیْمَانِهِمْ
لَىِٕنْ
جَآءَهُمْ
نَذِیْرٌ
لَّیَكُوْنُنَّ
اَهْدٰی
مِنْ
اِحْدَی
الْاُمَمِ ۚ
فَلَمَّا
جَآءَهُمْ
نَذِیْرٌ
مَّا
زَادَهُمْ
اِلَّا
نُفُوْرَا
۟ۙ
اور انہوں نے اللہ کی پختہ قسمیں کھائی تھیں کہ اگر ان کے پاس کوئی خبردار کرنے والاآیا تو وہ لازماً ہدایت یافتہ ہوجائیں گے کسی بھی امت سے بڑھ کر پھر جب آگئے ان کے پاس خبردار کرنے والے (محمد ﷺ تو اس چیز نے ان کے اندر (حق سے) فرار کے سوا کوئی اضافہ نہیں کیا
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 35:41 سے 35:42 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں

In the expression: إِنَّ اللَّـهَ يُمْسِكُ السَّمَاوَاتِ (Undoubtedly, Allah holds back the heavens and the earth - 35:41), the 'holding' of the heavens or the skies does not mean that their movement was stopped. Instead, it means holding them from moving askance - as the word: أَن تَزُولَا (an tazula: from leaving their existing state,) bears it out. Therefore, in this verse, there exists no supporting evidence on either side as to the skies move or they are static.