سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر: فصلت 41:24

41:24
فان يصبروا فالنار مثوى لهم وان يستعتبوا فما هم من المعتبين ٢٤
فَإِن يَصْبِرُوا۟ فَٱلنَّارُ مَثْوًۭى لَّهُمْ ۖ وَإِن يَسْتَعْتِبُوا۟ فَمَا هُم مِّنَ ٱلْمُعْتَبِينَ ٢٤
فَاِنْ
یَّصْبِرُوْا
فَالنَّارُ
مَثْوًی
لَّهُمْ ۚ
وَاِنْ
یَّسْتَعْتِبُوْا
فَمَا
هُمْ
مِّنَ
الْمُعْتَبِیْنَ
۟
تو اب اگر یہ لوگ صبر کریں (یا نہ کریں) پس ان کا ٹھکانہ آگ ہی ہے۔ اور اگر وہ معافی مانگیں تو اب انہیں معاف نہیں کیا جائے گا۔
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث

فان یصبروا فالنار مثوی لھم (41 : 24) ” اس حالت میں اگر وہ صبر کریں تو آگ ہی ان کا ٹھکانا ہے “۔ کیا سنجیدہ مزاح ہے۔ صبر اب آگ جہنم پر ہے۔ یہ وہ صبر نہیں ہے جس کے نتیجے میں انسان کو خوشی ، اور حسن جزاء نصیب ہوتی ہے۔ یہ وہ چیز ہے جس پر جزاء نار جہنم ہے کیونکہ اب تو قرار دیا جا چکا ہے کہ یہی ان کا ٹھکانا ہے۔

وان یستعتبوا فماھم من المعتبین (41 : 24) ” اگر رجوع کا موقعہ چاہیں گے تو کوئی موقعہ انہیں نہ دیا جائے گا “ ۔ نہ وہاں رضا مندی ہے اور نہ وہاں توبہ کی گنجائش ہے۔ کیونکہ جو شخص معافی مانگتا ہے تو معافی تب ہوتی ہے جب ظلم و زیادتی کو زائل کر کے معافی طلب کی جائے۔ آج تو معافی اور ازالے کا دروازہ ہی بند ہوچکا ہے۔ اور اس لئے ان کے پاس کوئی موقعہ نہیں ہے۔