سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر: ابراهيم 14:9

14:9
الم ياتكم نبا الذين من قبلكم قوم نوح وعاد وثمود والذين من بعدهم لا يعلمهم الا الله جاءتهم رسلهم بالبينات فردوا ايديهم في افواههم وقالوا انا كفرنا بما ارسلتم به وانا لفي شك مما تدعوننا اليه مريب ٩
أَلَمْ يَأْتِكُمْ نَبَؤُا۟ ٱلَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ قَوْمِ نُوحٍۢ وَعَادٍۢ وَثَمُودَ ۛ وَٱلَّذِينَ مِنۢ بَعْدِهِمْ ۛ لَا يَعْلَمُهُمْ إِلَّا ٱللَّهُ ۚ جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُم بِٱلْبَيِّنَـٰتِ فَرَدُّوٓا۟ أَيْدِيَهُمْ فِىٓ أَفْوَٰهِهِمْ وَقَالُوٓا۟ إِنَّا كَفَرْنَا بِمَآ أُرْسِلْتُم بِهِۦ وَإِنَّا لَفِى شَكٍّۢ مِّمَّا تَدْعُونَنَآ إِلَيْهِ مُرِيبٍۢ ٩
اَلَمْ
یَاْتِكُمْ
نَبَؤُا
الَّذِیْنَ
مِنْ
قَبْلِكُمْ
قَوْمِ
نُوْحٍ
وَّعَادٍ
وَّثَمُوْدَ ۛؕ۬
وَالَّذِیْنَ
مِنْ
بَعْدِهِمْ ۛؕ
لَا
یَعْلَمُهُمْ
اِلَّا
اللّٰهُ ؕ
جَآءَتْهُمْ
رُسُلُهُمْ
بِالْبَیِّنٰتِ
فَرَدُّوْۤا
اَیْدِیَهُمْ
فِیْۤ
اَفْوَاهِهِمْ
وَقَالُوْۤا
اِنَّا
كَفَرْنَا
بِمَاۤ
اُرْسِلْتُمْ
بِهٖ
وَاِنَّا
لَفِیْ
شَكٍّ
مِّمَّا
تَدْعُوْنَنَاۤ
اِلَیْهِ
مُرِیْبٍ
۟
کیا تمہارے پاس آ نہیں چکی ہیں خبریں ان لوگوں کی جو تم سے پہلے تھے یعنی قوم نوح اور عاد اور ثمود کی اور ان کی جو ان کے بعد ہوئے انہیں اللہ کے علاوہ کوئی نہیں جانتا ان کے پاس آئے ان کے رسول واضح نشانیاں لے کر تو انہوں نے اپنی انگلیاں اپنے مونہوں میں ٹھونس لیں اور کہا کہ ہم تو انکار کرتے ہیں اس کا جس کے ساتھ تم بھیجے گئے ہو اور تم ہمیں جس چیز کی دعوت دے رہے ہو اس کے بارے میں ہم سخت الجھن میں ڈال دینے والے شک میں مبتلا ہیں
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 14:8 سے 14:25 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں

In the last verse here (8), it was said: قَالَ مُوسَىٰ إِن تَكْفُرُ‌وا أَنتُمْ وَمَن فِي الْأَرْ‌ضِ جَمِيعًا (And Musa said, "If you are ungrateful, you and all those on earth, then, Allah is free of all needs, worthy of every praise.) " This was said by Sayyidna Musa (علیہ السلام) to his people. He is telling them that should they or, for that matter, all inhabitants of the earth become ungrateful to Allah Ta’ ala, it is not going to cause any loss to Allah Ta’ ala. As for Him, He needs no praise or gratitude for Himself. He is Independent. He is beyond that. He is intrinsically Praised and deserving of praise. If you do not praise Him, the angels do, all of them, and so does every particle of this universe.

So, whatever good there is in gratitude, that is for you alone. There-fore, when you are asked to be grateful by Allah Ta’ ala, there is no gain for Him in doing so. In fact, it is His infinite mercy reaching out to you in your interest.