سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر: مريم 19:6

19:6
يرثني ويرث من ال يعقوب واجعله رب رضيا ٦
يَرِثُنِى وَيَرِثُ مِنْ ءَالِ يَعْقُوبَ ۖ وَٱجْعَلْهُ رَبِّ رَضِيًّۭا ٦
یَّرِثُنِیْ
وَیَرِثُ
مِنْ
اٰلِ
یَعْقُوْبَ ۖۗ
وَاجْعَلْهُ
رَبِّ
رَضِیًّا
۟
جو وارث ہو میرا اور آل یعقوب کا اور اے میرے پروردگار ! اس کو بنائیو پسندیدہ
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 19:4 سے 19:6 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں

ولم اکن بدعاءک رب شقیاً (91 : 3) ” اور اے پروردگار میں کبھی تجھ سے دعا مانگ کر نامراد نہیں ہوا۔ “ وہ اعتراف کرتے ہیں کہ ان کے بارے میں رب تعالیٰ کی یہ دعادت رہی ہے کہ جب بھی انہوں نے دعا کی ہے رب تعالیٰ نے منظور فرمائی ہے۔ جب وہ اپنے زمانہ جوانی اور قوت میں دعا میں نامراد نہیں رہے تو اب حالت ضعیفی میں تو وہ اس بات کے زیادہ مستحق ہیں کہ اللہ انہیں نامراد نہ کرے اور ان کی دعا کو قبول کرلے۔

یہ تھی حضرت زکریا (علیہ السلام) کی دعا اپنے رب کے جناب میں ، نہایت ہی خفیہ انداز میں اور عاجزی اور تضرع کے ساتھ ، الفاظ ، عانی ، ماحول اور اثرات پر اعتبار سے اس میں نرمی پائی جاتی ہے ، اور منظر پر نہایت ہی ادب اور شائستگی چھائی ہوتی ہے۔

اب جواب دعاء ملاحظہ ہو اور اس موقعہ پر مکالمات :۔