سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر: مريم 19:8

19:8
قال رب انى يكون لي غلام وكانت امراتي عاقرا وقد بلغت من الكبر عتيا ٨
قَالَ رَبِّ أَنَّىٰ يَكُونُ لِى غُلَـٰمٌۭ وَكَانَتِ ٱمْرَأَتِى عَاقِرًۭا وَقَدْ بَلَغْتُ مِنَ ٱلْكِبَرِ عِتِيًّۭا ٨
قَالَ
رَبِّ
اَنّٰی
یَكُوْنُ
لِیْ
غُلٰمٌ
وَّكَانَتِ
امْرَاَتِیْ
عَاقِرًا
وَّقَدْ
بَلَغْتُ
مِنَ
الْكِبَرِ
عِتِیًّا
۟
اس نے کہا : اے میرے پروردگار ! میرے ہاں بیٹا کیسے ہوجائے گا جبکہ میری بیوی بانجھ ہے اور میں پہنچ چکا ہوں بڑھاپے کے باعث سوکھ جانے کی حالت کو
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 19:8 سے 19:9 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں

آیت 8 قَالَ رَبِّ اَ نّٰی یَکُوْنُ لِیْ غُلٰمٌ یہ وہی بات ہے جو حضرت زکریا علیہ السلام کے حوالے سے ہم سورة آل عمران آیت 40 میں بھی پڑھ چکے ہیں۔وَّکَانَتِ امْرَاَتِیْ عَاقِرًا وَّقَدْ بَلَغْتُ مِنَ الْکِبَرِ عِتِیًّایعنی بڑھاپے کی وجہ سے میرے جسم میں حیات کے سارے سوتے خشک ہوچکے ہیں۔