سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر: ق 50:30

50:30
يوم نقول لجهنم هل امتلات وتقول هل من مزيد ٣٠
يَوْمَ نَقُولُ لِجَهَنَّمَ هَلِ ٱمْتَلَأْتِ وَتَقُولُ هَلْ مِن مَّزِيدٍۢ ٣٠
یَوْمَ
نَقُوْلُ
لِجَهَنَّمَ
هَلِ
امْتَلَاْتِ
وَتَقُوْلُ
هَلْ
مِنْ
مَّزِیْدٍ
۟
جس دن ہم پوچھیں گے جہنم سے کہ کیا تو بھر گئی ؟ اور وہ کہے گی کیا کچھ اور بھی ہے ؟
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث

یہ پورا منظر ہی سوال و جواب کا منظر ہے ، یہاں مکالمے کے لئے جہنم کو پیش کیا جاتا ، یوں یہ عجیب و غریب اور خوفناک منظر ہے۔ تمام کفار معاند ، بھلائی سے روکنے والے ، حد سے گزر نے والے اور قیامت میں شک کرنے والے موجود ہیں۔ یہ سب جہنم میں کثرت سے پھینکے جا رہے ہیں اور جہنم میں ان کے ڈھیر لگ جاتے ہیں۔ اس کے بعد جہنم سے کہا جاتا ہے کہ کیا تم بھر گئی ہو اور کیا یہ لوگ تمہارے لیے کافی ہے لیکن وہ بڑی سختی سے جوش میں آکر اور جلتے ہوئے کہے گی۔

ھل من مزید (50 : 30) (کیا اور کچھ ہے ؟ ) اس طرح جس طرح بھوکا خونخوار منہ کھولے ہوئے کوئی درندہ ہوتا ہے۔ کیا ہی خوفناک منظر ہے یہ !