سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر: ق 50:43

50:43
انا نحن نحيي ونميت والينا المصير ٤٣
إِنَّا نَحْنُ نُحْىِۦ وَنُمِيتُ وَإِلَيْنَا ٱلْمَصِيرُ ٤٣
اِنَّا
نَحْنُ
نُحْیٖ
وَنُمِیْتُ
وَاِلَیْنَا
الْمَصِیْرُ
۟ۙ
یقینا ہم ہی زندہ رکھتے ہیں اور ہم ہی موت وارد کرتے ہیں۔ اور ہماری ہی طرف (سب کو) پلٹ کر آنا ہے۔
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 50:41 سے 50:44 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں

قیامت کی کوئی تاریخ مقرر نہیں۔ کسی بھی وقت اللہ تعالیٰ کا حکم ہوگا اور اسرافیل صور میں پھونک مار کر اس کی اچانک آمد کی اطلاع دے دیں گے۔

جو لوگ خدا سے غافل ہیں وہ قیامت کو دور کی چیز سمجھتے ہیں۔ مگر جو سچا مومن ہے وہ ہر آن اس اندیشہ میں رہتا ہے کہ کب صور پھونک دیا جائے اور کب قیامت آجائے۔ صور پھونکے جانے کے بعد زمین و آسمان کا نقشہ بدل چکا ہوگا اور تمام لوگ ایک نئی دنیا میں جمع کیے جائیں گے تاکہ اپنے اپنے عمل کے مطابق اپنا ابدی انجام پا سکیں۔