سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر: سبإ 34:34

34:34
وما ارسلنا في قرية من نذير الا قال مترفوها انا بما ارسلتم به كافرون ٣٤
وَمَآ أَرْسَلْنَا فِى قَرْيَةٍۢ مِّن نَّذِيرٍ إِلَّا قَالَ مُتْرَفُوهَآ إِنَّا بِمَآ أُرْسِلْتُم بِهِۦ كَـٰفِرُونَ ٣٤
وَمَاۤ
اَرْسَلْنَا
فِیْ
قَرْیَةٍ
مِّنْ
نَّذِیْرٍ
اِلَّا
قَالَ
مُتْرَفُوْهَاۤ ۙ
اِنَّا
بِمَاۤ
اُرْسِلْتُمْ
بِهٖ
كٰفِرُوْنَ
۟
اور ہم نے نہیں بھیجا کسی بھی بستی میں کوئی خبردار کرنے والا مگر (ہمیشہ ایسا ہوا کہ) اس کے آسودہ حال لوگوں نے کہا کہ جو چیز آپ دے کر بھیجے گئے ہیں ہم اس کے منکر ہیں۔
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث

وما ارسلنا ۔۔۔۔۔۔ بہ کفرون (24)

یہ ایک عام رویہ ہے ، بار بار دہرایا جاتا ہے ، اس دنیا میں۔ زمانوں سے ایسا ہی ہوتا آیا ہے۔ خوشحالی دلوں کو سخت کردیتی ہے دلوں سے احساس ختم ہوجاتا ہے۔ فطرت بگڑ جاتی ہے۔ اور باطل کے نیچے دب جاتی ہے۔ اسے دلائل ہدایت نظر ہی نہیں آتے۔ اس لیے ہدایت کے مقابلے میں مفسدین اپنے آپ کو اونچا سمجھتے ہیں اور ان کے سینے روشنی کے لیے بند ہوجاتے ہیں۔

ہمیشہ یوں ہوتا ہے کہ اہل ثروت اور کھاتے پیتے لوگوں کی جھوٹی قدریں ان کو دھوکہ دیتی ہیں۔ ان کے پاس جو دولت اور قوت ہوتی ہے وہ ان کو دھوکے میں ڈالتی ہے ۔ یہ سمجھتے ہیں کہ ان کا یہ اثر ان کو عذاب الٰہی سے بھی بچا لے گا۔ اللہ نے جع ان کو دولت دی ہے یہی تو اللہ کی رضا کی علامت ہے اور یہ کہ وہ حساب و کتاب اور جواب دہی کے مقام سے بلند ہیں۔