سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر: سبإ 34:39

34:39
قل ان ربي يبسط الرزق لمن يشاء من عباده ويقدر له وما انفقتم من شيء فهو يخلفه وهو خير الرازقين ٣٩
قُلْ إِنَّ رَبِّى يَبْسُطُ ٱلرِّزْقَ لِمَن يَشَآءُ مِنْ عِبَادِهِۦ وَيَقْدِرُ لَهُۥ ۚ وَمَآ أَنفَقْتُم مِّن شَىْءٍۢ فَهُوَ يُخْلِفُهُۥ ۖ وَهُوَ خَيْرُ ٱلرَّٰزِقِينَ ٣٩
قُلْ
اِنَّ
رَبِّیْ
یَبْسُطُ
الرِّزْقَ
لِمَنْ
یَّشَآءُ
مِنْ
عِبَادِهٖ
وَیَقْدِرُ
لَهٗ ؕ
وَمَاۤ
اَنْفَقْتُمْ
مِّنْ
شَیْءٍ
فَهُوَ
یُخْلِفُهٗ ۚ
وَهُوَ
خَیْرُ
الرّٰزِقِیْنَ
۟
(اے نبی ﷺ !) آپ کہیے کہ یقینا میرا ربّ کشادہ کرتا ہے رزق جس کے لیے چاہتا ہے اپنے بندوں میں سے اور (جسے چاہتا ہے) اس کے لیے تنگ کردیتا ہے۔ اور جو کچھ بھی تم لوگ خرچ کرتے ہو تو وہ اسے لوٹا دیتا ہے۔ } اور وہ بہترین رزق دینے والا ہے۔
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث

قل ان ربی یبسط ۔۔۔۔۔۔ خیر الرزقین (29) ” یہ سبق ایک ایسے منظر پر ختم ہوتا ہے جس میں وہ تمام لوگ فرشتوں کے سامنے پیش کیے جاتے ہیں ، جو فرشتوں کی بندگی کرتے ہیں اور جب ان سے کہا جاتا تھا کہ قیامت کے عذاب سے ڈرو تو وہ کہتے تھے کہاں ہے قیامت ، لاؤ۔ ان سے کہا جائے گا اب چکھو اس عذاب کو جس کے متعلق تمہیں جلدی تھی۔