سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر: طه 20:120

20:120
فوسوس اليه الشيطان قال يا ادم هل ادلك على شجرة الخلد وملك لا يبلى ١٢٠
فَوَسْوَسَ إِلَيْهِ ٱلشَّيْطَـٰنُ قَالَ يَـٰٓـَٔادَمُ هَلْ أَدُلُّكَ عَلَىٰ شَجَرَةِ ٱلْخُلْدِ وَمُلْكٍۢ لَّا يَبْلَىٰ ١٢٠
فَوَسْوَسَ
اِلَیْهِ
الشَّیْطٰنُ
قَالَ
یٰۤاٰدَمُ
هَلْ
اَدُلُّكَ
عَلٰی
شَجَرَةِ
الْخُلْدِ
وَمُلْكٍ
لَّا
یَبْلٰی
۟
تو وسوسہ ڈالا اس کے ذہن میں شیطان نے اس نے کہا : اے آدم ؑ ! کیا میں بتاؤں تجھے ہمیشہ رہنے والے درخت اور ایسی بادشاہی کے بارے میں جو کبھی پرانی نہ ہو
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث

شیطان نے انسان کی نہایت ہی حساس رگ پر ہاتھ رکھا۔ انسانی عمر بہرحال محدود ہے۔ انسانی قوت بہرحال محدود ہے۔ انسان طویل زندگی اور طویل اقتدار کا بےحد دلدادہ رہا ہے۔ ان دونوں راستوں سے شیطان اس پر حملہ آور ہوتا ہے۔ آدم بہرحال انسان تھے۔ آدم انسانی فطرت اور انسانی کمزوری کے حامل تھے۔ پھر اس تجربہ کے ساتھ دنیا کے منصوبے اور نظام تقدیر کا بھی تعلق تھا۔ چناچہ آدم بھول گیا اور اس نے ممنوعہ علاقے میں قدم رکھ لیا۔