سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔
20:47
فاتياه فقولا انا رسولا ربك فارسل معنا بني اسراييل ولا تعذبهم قد جيناك باية من ربك والسلام على من اتبع الهدى ٤٧
فَأْتِيَاهُ فَقُولَآ إِنَّا رَسُولَا رَبِّكَ فَأَرْسِلْ مَعَنَا بَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ وَلَا تُعَذِّبْهُمْ ۖ قَدْ جِئْنَـٰكَ بِـَٔايَةٍۢ مِّن رَّبِّكَ ۖ وَٱلسَّلَـٰمُ عَلَىٰ مَنِ ٱتَّبَعَ ٱلْهُدَىٰٓ ٤٧
فَاْتِیٰهُ
فَقُوْلَاۤ
اِنَّا
رَسُوْلَا
رَبِّكَ
فَاَرْسِلْ
مَعَنَا
بَنِیْۤ
اِسْرَآءِیْلَ ۙ۬
وَلَا
تُعَذِّبْهُمْ ؕ
قَدْ
جِئْنٰكَ
بِاٰیَةٍ
مِّنْ
رَّبِّكَ ؕ
وَالسَّلٰمُ
عَلٰی
مَنِ
اتَّبَعَ
الْهُدٰی
۟
پس تم دونوں جاؤ اس (فرعون) کے پاس اور اس سے کہو کہ بلاشبہ ہم دونوں رسول ہیں تیرے رب کی جانب سے پس ہمارے ساتھ بھیج دے بنی اسرائیل کو اور انہیں عذاب میں مبتلا مت رکھ یقیناً ہم آئے ہیں ایک نشانی لے کر تیرے رب کی طرف سے۔ اور سلامتی ان پر ہے جو ہدایت کا اتباع کریں
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث

( فَأْتِيَاهُ فَقُولا لَهُ إِنَّا رَسُولا رَبِّكَ ).

وبنحو الذي قلنا في ذلك، قال أهل التأويل.

* ذكر من قال ذلك:

حدثنا القاسم، قال: ثنا الحسين، قال: ثني حجاج ( قَالَ لا تَخَافَا إِنَّنِي مَعَكُمَا أَسْمَعُ وَأَرَى ) ما يحاوركما، فأوحي إليكما فتجاوبانه.