سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر: يونس 10:73

10:73
فكذبوه فنجيناه ومن معه في الفلك وجعلناهم خلايف واغرقنا الذين كذبوا باياتنا فانظر كيف كان عاقبة المنذرين ٧٣
فَكَذَّبُوهُ فَنَجَّيْنَـٰهُ وَمَن مَّعَهُۥ فِى ٱلْفُلْكِ وَجَعَلْنَـٰهُمْ خَلَـٰٓئِفَ وَأَغْرَقْنَا ٱلَّذِينَ كَذَّبُوا۟ بِـَٔايَـٰتِنَا ۖ فَٱنظُرْ كَيْفَ كَانَ عَـٰقِبَةُ ٱلْمُنذَرِينَ ٧٣
فَكَذَّبُوْهُ
فَنَجَّیْنٰهُ
وَمَنْ
مَّعَهٗ
فِی
الْفُلْكِ
وَجَعَلْنٰهُمْ
خَلٰٓىِٕفَ
وَاَغْرَقْنَا
الَّذِیْنَ
كَذَّبُوْا
بِاٰیٰتِنَا ۚ
فَانْظُرْ
كَیْفَ
كَانَ
عَاقِبَةُ
الْمُنْذَرِیْنَ
۟
تو انہوں نے (پھر بھی) جھٹلا دیا اس کو تو ہم نے نجات دے دی اس کو اور جو بھی اس کے ساتھ تھے کشتی میں اور ان کو بنا دیا جانشین اور غرق کردیا ہم نے ان لوگوں کو جنہوں نے ہماری آیات کی تکذیب کی تھی تو دیکھو کیسا انجام ہوا ان لوگوں کا جنہیں خبردار کردیا گیا تھا !
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث

فکذبوہ (حق واضح ہونے کے بعد بھی محض عناد اور ضد کی وجہ سے) قوم نوح تکذیب پر جمی رہی۔

فنجینہ ومن معہ فی الفلک پس ہم نے نوح کو اور ان کے ساتھیوں کو کشتی میں (غرق ہونے سے) بچا لیا۔ یہ سب اسّی آدمی تھے۔

وجعلھم خلف واغرقنا الذین کذبوا بایتنا اور ہم نے ان کو (مرنے والوں کا) جانشین بنایا اور جنہوں نے ہماری نشانیوں کو جھٹلایا تھا ‘ ان کو (طوفان میں) ڈبو دیا۔

فانظر کیف کان عاقبۃ المنذرین۔ سو آپ دیکھئے کہ جو لوگ ڈرائے گئے تھے ان کا انجام کیسا ہوا۔ یعنی جن لوگوں کو پیغمبروں نے اللہ کی نافرمانی کے عذاب سے ڈرایا تھا اور وہ ایمان نہیں لائے تھے ‘ وہ کس طرح تباہ ہوئے۔

اس جملہ میں رسول اللہ (ﷺ) کیلئے پیام تسکین اور تکذیب کرنے والوں کو عظیم الشان عذاب سے تخویف ہے۔