Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Al-Kahf 18:21

18:21
وكذالك اعثرنا عليهم ليعلموا ان وعد الله حق وان الساعة لا ريب فيها اذ يتنازعون بينهم امرهم فقالوا ابنوا عليهم بنيانا ربهم اعلم بهم قال الذين غلبوا على امرهم لنتخذن عليهم مسجدا ٢١
وَكَذَٰلِكَ أَعْثَرْنَا عَلَيْهِمْ لِيَعْلَمُوٓا۟ أَنَّ وَعْدَ ٱللَّهِ حَقٌّۭ وَأَنَّ ٱلسَّاعَةَ لَا رَيْبَ فِيهَآ إِذْ يَتَنَـٰزَعُونَ بَيْنَهُمْ أَمْرَهُمْ ۖ فَقَالُوا۟ ٱبْنُوا۟ عَلَيْهِم بُنْيَـٰنًۭا ۖ رَّبُّهُمْ أَعْلَمُ بِهِمْ ۚ قَالَ ٱلَّذِينَ غَلَبُوا۟ عَلَىٰٓ أَمْرِهِمْ لَنَتَّخِذَنَّ عَلَيْهِم مَّسْجِدًۭا ٢١
وَكَذَٰلِكَ
أَعۡثَرۡنَا
عَلَيۡهِمۡ
لِيَعۡلَمُوٓاْ
أَنَّ
وَعۡدَ
ٱللَّهِ
حَقّٞ
وَأَنَّ
ٱلسَّاعَةَ
لَا
رَيۡبَ
فِيهَآ
إِذۡ
يَتَنَٰزَعُونَ
بَيۡنَهُمۡ
أَمۡرَهُمۡۖ
فَقَالُواْ
ٱبۡنُواْ
عَلَيۡهِم
بُنۡيَٰنٗاۖ
رَّبُّهُمۡ
أَعۡلَمُ
بِهِمۡۚ
قَالَ
ٱلَّذِينَ
غَلَبُواْ
عَلَىٰٓ
أَمۡرِهِمۡ
لَنَتَّخِذَنَّ
عَلَيۡهِم
مَّسۡجِدٗا
٢١
このようにして,われはかれらの消息を明るみに出した。それはアッラーの約束が真実であり,また(最後の審判の)時に就いては,疑いのないことを知らせるためである。すると人びとはかれらの事件に就き互いに論じ,(一人が)言った。「かれらの上に建物を建てよう。主は, かれら(の真意)を最もよく知っておられます。」かれらを牛耳っている者たちが言った。「わたしたちは,かれらの上にマスジドを建立することにしよう。」

— Ryoichi Mita

Và như thế (với cách đó) TA đã cho lộ tung tích của họ (nhóm thanh niên trong hang núi) để họ (thiên hạ) biết rằng lời hứa của Allah là sự thật và rằng giờ Tận Thế (cũng là sự thật) không có gì phải ngờ vực. (Ngươi hãy nhớ lại) lúc họ (người dân trong thành phố) tranh cãi nhau về vụ việc của họ (nhóm thanh niên trong hang núi). Một số bảo: “Các người hãy xây lên chỗ của họ một tượng đài, Thượng Đế của họ biết rõ về họ.” Những người chiếm ưu thế trong cuộc tranh cãi nói: “Chúng ta chắc chắn sẽ xây một Masjid bên trên chỗ của họ.”

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith

اس واقعہ سے قرآن مجید کے پیش نظر کیا نتیجہ نکالنا مقصود ہے ؟ یہ کہ بعث بعد الموت کے لئے یہ واقعہ ایک قریب انفہم اور محسوس نمونہ ہے۔ اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ موجودہ انسانی ڈھانچے کو بھی صدیوں تک زندہ رکھ سکتا ہے اور دوبارہ بھی اٹھا سکتا ہے اور قیام قیامت اور بعث بعد الموت حق ہے جس میں کوئی شک نہیں۔ یوں اللہ نے ان نوجوانوں کو ان کی نیند سے جگایا اور ان کی قوم کو بتایا کہ صدیوں تک یہ لوگ یونہی پڑے تھے۔

اب بعض لوگوں نے کہا

بعض لوگوں نے کہا ان پر دیوار چن دو کیونکہ ان کے عقائد کے بارے میں ہمیں کچھ علم نہیں ہے۔

ان کا رب ان کے معاملے کو بہتر جانتا ہے یعنی ان کے عقائد اور ان کی پوزیشن کے بارے میں لیکن اس وقت اصحاب حل و عقد نے کہا

’ ہم تو ان پر ایک عبادت گاہ بنائیں گے “ مسجد سے مقصد یہاں عبادت گاہ ہے۔ یہ یہود و نصاریٰ کا طریقہ تھا کہ و انبیاء اور اولیاء کی قبروں کے قریب عبادت گاہ بنا دیتے تھے۔ جس طرح آج مسلمانوں میں سے جو لوگ نبی ﷺ کے طریقہ کار کو چھوڑ کر ، صلحاء کی قبروں کے ساتھ مساجد اور گنبد بناتے ہیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا

” اللہ کی لعنت ہو یہود و نصاریٰ پ جنہوں نے اپنے نبیوں اور صالحین کی قبروں سے عبادت گاہ بنا دی “

اب اس منظر پر بھی پردہ گرتا ہے اور جب پردہ اٹھتا ہے تو اصحاب کہف کے بارے میں اب تاریخی مباحث شروع ہیں ، جیسا کہ لوگوں کی عادت ہوتی ہے۔ لوگ تاریخی خبریں اور روایات نقل کرتے رہتے ہیں۔ بعض واقعات کو حذف کردیتے ہیں ، بعض میں اضافہ کردیتے ہیں اور نسلا بعد نسل ان واقعات میں اپنے خیالات بھرتے رہتے ہیں اب قصے پھیلتے جاتے ہیں اصل قصہ الگ رہ جاتا ہے کچھ اور واقعات اہمیت اختیار کرلیتے ہیں ایک ایک بات کے بارے میں اقوال و اختلاف سامنے آتے ہیں اور قیل و قال میں اضافہ ہوتا رہتا ہے اور جوں جوں وقت گزرتا ہے اختلافات بڑھتے جاتے ہیں۔