Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ
26:154
ما انت الا بشر مثلنا فات باية ان كنت من الصادقين ١٥٤
مَآ أَنتَ إِلَّا بَشَرٌۭ مِّثْلُنَا فَأْتِ بِـَٔايَةٍ إِن كُنتَ مِنَ ٱلصَّـٰدِقِينَ ١٥٤
مَآ
أَنتَ
إِلَّا
بَشَرٞ
مِّثۡلُنَا
فَأۡتِ
بِـَٔايَةٍ
إِن
كُنتَ
مِنَ
ٱلصَّٰدِقِينَ
١٥٤
あなたは,わたしたちと同じ一人の人間に過ぎません。あなたの言うのが本当なら,わたしたちに印を齎しなさい。」

— Ryoichi Mita

“Ngươi chẳng qua cũng chỉ là một người phàm như bọn ta. Nhưng nếu ngươi nói thật thì ngươi hãy mang ra cho bọn ta thứ gì đó chứng minh xem nào.”

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 26:153 đến 26:159
نبی کا اپنے آپ سے تقابل ٭٭

ثمودیوں نے اپنے نبی کو جواب دیا کہ تجھ پر تو کسی نے جادو کر دیا ہے گو ایک معنی یہ بھی کئے گئے کہ تو مخلوق میں سے ہے اور اس کی دلیل میں عربی کا ایک شعر بھی پیش کیا جاتا ہے لیکن ظاہر معنی پہلے ہی ہیں۔

اسی کے ساتھ انہوں نے کہا کہ تو تو ہم جیسا ایک انسان ہے یہ کیسے ممکن ہے کہ ہم میں سے تو کسی پر وحی نہ آئے اور تجھ پر آ جائے کچھ نہیں یہ صرف بناوٹ ہے ایک خود ساختہ ڈرامہ ہے محض جھوٹ اور صاف طوفان ہے اچھا ہم کہتے ہیں اگر تو واقعی سچا نبی ہے تو کوئی معجزہ دکھا اس وقت ان کے چھوٹے بڑے سب جمع تھے اور یک زبان ہو کر سب نے معجزہ طلب کیا تھا۔

صفحہ نمبر6287

آپ علیہ السلام نے پوچھا ”تم کیا معجزہ دیکھانا چاہتے ہو؟“ انہوں نے کہا یہ سامنے جو پتھر کی بڑی ساری چٹان ہے یہ ہمارے دیکھتے ہوئے پھٹے اور اس میں سے ایک گابھن اونٹنی اس اس رنگ کی اور ایسی ایسی نکلے۔

آپ علیہ السلام نے فرمایا ”اچھا اگر میں رب سے دعا کروں اور وہ یہی معجزہ میرے ہاتھوں تمہیں دکھا دے پھر تو تمہیں میری نبوت کے ماننے میں کوئی عذر نہ ہو گا؟“ سب نے پختہ وعدہ کیا قول قرار کیا کہ ہم سب ایمان لائیں گے اور آپ کی نبوت مان لیں گے۔ آپ علیہ السلام بہت جلد یہ معجزہ دکھائیں۔

آپ علیہ السلام نے اسی وقت نماز شروع کر دی پھر اللہ عزوجل سے دعا کی اسی وقت وہ پتھر پھٹا اور اسی طرح کی ایک اونٹنی ان کے دیکھتے ہوئے اس میں سے نکلی۔ کچھ لوگ تو حسب اقرار مومن ہو گئے لیکن اکثر لوگ پھر بھی کافر کے کافر رہے۔ آپ علیہ السلام نے کہا ”سنو ایک دن یہ پانی پئے گی اور ایک دن پانی کی باری تمہاری مقرر رہے گی۔ اب تم میں سے کوئی اسے برائی نہ پہنچائے ورنہ بدترین عذاب تم پر اتر پڑے گا۔‏“ ایک عرصے تک تو وہ رکے رہے۔ اونٹنی ان میں رہی چارہ چگتی اور اپنی باری والے دن پانی پیتی۔ اس دن یہ لوگ اس کے دودھ سے سیر ہو جاتے۔

لیکن ایک مدت کے بعد ان کی بدبختی نے انہیں آ گھیرا۔ ان میں سے ایک ملعون نے اونٹنی کے مار ڈالنے کا ارادہ کیا اور کل اہل شہر اس کے موافق ہو گئے چنانچہ اس کی کوچیں کاٹ کر اسے مار ڈالا۔ جس کے نتیجے میں انہیں سخت ندامت اور پیشمانی اٹھانی پڑی اللہ کے عذاب نے انہیں اچانک آ دبوچا۔ ان کی زمین ہلا دی گئیں اور ایک چیخ سے سب کے سب ہلاک کر دئیے گئے۔ دل اڑ گئے کلیجے پاش پاش ہو گئے اور وہم گمان بھی جس چیز کا نہ تھا وہ آن پڑا۔ اور تا آخر سب غارت ہو گئے اور دنیا جہاں کے لیے یہ خوفناک واقعہ عبرت افزا ہو گیا۔ اتنی بڑی نشانی اپنی آنکھوں دیکھ کر بھی ان میں سے اکثر لوگوں کو ایمان لانا نصیب نہ ہوا اسمیں کچھ شک نہیں کہ اللہ غالب ہے اور رحیم بھی ہے۔

صفحہ نمبر6288