Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Al-Baqarah 2:153

2:153
يا ايها الذين امنوا استعينوا بالصبر والصلاة ان الله مع الصابرين ١٥٣
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ ٱسْتَعِينُوا۟ بِٱلصَّبْرِ وَٱلصَّلَوٰةِ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ مَعَ ٱلصَّـٰبِرِينَ ١٥٣
يَٰٓأَيُّهَا
ٱلَّذِينَ
ءَامَنُواْ
ٱسۡتَعِينُواْ
بِٱلصَّبۡرِ
وَٱلصَّلَوٰةِۚ
إِنَّ
ٱللَّهَ
مَعَ
ٱلصَّٰبِرِينَ
١٥٣
あなたがた信仰する者よ,忍耐と礼拝によって助けを求めなさい。本当にアッラーは耐え忍ぶ者と共におられる。

— Ryoichi Mita

Hỡi những người có đức tin, các ngươi hãy cầu xin sự giúp đỡ (của Allah) bằng lòng kiên nhẫn và lễ nguyện Salah. Quả thật, Allah luôn bên cạnh những người kiên nhẫn.

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 2:153 đến 2:157

دین یہ ہے کہ آدمی اپنے خالق کو اس طرح پالے کہ اس کی یاد میں اور اس کی شکر گزاری میں اس کے صبح و شام بسر ہونے لگیں۔ اس قسم کی زندگی ہی تمام خوشیوں اور لذتوں کا خزانہ ہے۔ مگر یہ خوشیاں اور لذتیں اپني حقیقی صورت میں آدمی کو صرف آخرت میں ملیں گی۔ موجودہ دنیا کو اللہ تعالیٰ نے انعام کے لیے نہیں بنایا بلکہ امتحان کے لیے بنایا ہے، یہاں ایسے حالات رکھے گئے ہیں کہ خداپرستی کی راہ میں آدمی کے لیے رکاوٹیں پڑیں تاکہ معلوم ہو کہ کون اپنے ايمان كے اظهار میں سنجیدہ ہے اور کون سنجیدہ نہیں — نفس کے محرکات، بیوی بچوں کے تقاضے، دنیا کی مصلحتیں، شیطان کے وسوسے، سماجی حالات کا دباؤ، وغيره۔ یہ چیزیں فتنہ کی صورت میں آدمی کو گھیرے رہتی ہیں۔ آدمی کے لیے ضروری ہوجاتا ہے کہ وہ ان فتنوں کو پہچانے اور ان سے اپنے آپ کو بچاتے ہوئے ذکر وشکر کے تقاضے پورا کرے۔

ان امتحانی مشکلات کے مقابلہ میں کامیابی کا واحد ذریعہ نماز اور صبر ہے۔ یعنی اللہ سے لپٹنا اور ہر قسم کی ناخوش گواریوں کو برداشت کرتے ہوئے بالارادہ حق کے راستہ پر جمے رہنا۔ جو لوگ نا موافق حالات سامنے آنے کے باوجود نہ بدکیں اور بظاہر غیر اللہ میں نفع دیکھتے ہوئے اللہ کے ساتھ اپنے کو باندھے رہیں وہی وہ لوگ ہیں جو سنتِ الٰہی کے مطابق کامیابی کی منزل تک پہنچیں گے۔

حق کی راہ میں مشکلات ومصائب کا دوسرا سبب مومن کا تبلیغی کردار ہے۔ تبلیغ ودعوت کا کام نصیحت اور تنقید کا کام ہے۔ اور نصیحت اور تنقید ہمیشہ آدمی کے لیے سب سے زیادہ ناپسنديده چیز رہی ہے، ان میں بھی نصیحت سننے کے لیے سب سے زیادہ حساس وہ لوگ ہوتے ہیں جو اپنے دنیا کے کاروبار کو دین کے نام پر کررہے ہوں۔داعی کی ذات اور اس کے پیغام میں ایسے تمام لوگوں کو اپنی حیثیت کی نفی (negation)نظر آنے لگتی ہے۔ داعی کا وجود ایک ایسی ترازو بن جاتاہے جس پر ہر آدمی تُل رہا ہو۔ ا س کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ داعی بننا بھِڑ کے چھۃ میں ہاتھ ڈالنے کے ہم معنی بن جاتا ہے۔ ایسا آدمی اپنے ماحول کے اندر بے جگہ کردیا جاتا ہے۔ اس کی معاشیات برباد ہوجاتی ہیں۔ اس کی ترقیوں کے دروازے بند ہوجاتے ہیں۔ حتی کہ اس کی جان تک خطرہ میں پڑجاتی ہے۔ مگر وہی آدمی راہ پر ہے جس کو بے راہ بتا کر ستایا جائے۔ وہی پاتا ہے جو اللہ کی راہ میں کھوئے۔ وہی جی رہا ہے جو اللہ کی راہ میں اپنی جان دے دے۔آخرت کی جنت اسی کے لیے ہے جو اللہ کی خاطر دنیا کی جنت سے محروم ہوگیا ہو۔