Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Al-Baqarah 2:155

2:155
ولنبلونكم بشيء من الخوف والجوع ونقص من الاموال والانفس والثمرات وبشر الصابرين ١٥٥
وَلَنَبْلُوَنَّكُم بِشَىْءٍۢ مِّنَ ٱلْخَوْفِ وَٱلْجُوعِ وَنَقْصٍۢ مِّنَ ٱلْأَمْوَٰلِ وَٱلْأَنفُسِ وَٱلثَّمَرَٰتِ ۗ وَبَشِّرِ ٱلصَّـٰبِرِينَ ١٥٥
وَلَنَبۡلُوَنَّكُم
بِشَيۡءٖ
مِّنَ
ٱلۡخَوۡفِ
وَٱلۡجُوعِ
وَنَقۡصٖ
مِّنَ
ٱلۡأَمۡوَٰلِ
وَٱلۡأَنفُسِ
وَٱلثَّمَرَٰتِۗ
وَبَشِّرِ
ٱلصَّٰبِرِينَ
١٥٥
われは,恐れや飢え,と共に財産や生命,(あなたがたの労苦の)果実の損失で,必ずあなたがたを試みる。だが耐え忍ぶ者には吉報を伝えなさい。

— Ryoichi Mita

TA chắc chắn thử thách các ngươi với nỗi sợ hãi, với cơn đói khát, với việc mất mát tài sản, với sự nguy hại tính mạng và với việc thiệt hại trái quả (thất bát mùa màng). Tuy nhiên, Ngươi (hỡi Thiên Sứ) hãy báo tin vui cho những người biết kiên nhẫn.

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 2:155 đến 2:156

اب اس سبق میں تحریک اسلامی کو نئے واقعات اور نئی صورتحال کے مقابلے کے لئے تیار کیا جاتا ہے ۔ آنے والے واقعات کے سلسلے میں اسے ایک صحیح نقطہ نظر دیا جاتا ہے :

تربیت کے لئے انسان کو مصائب کی بھٹی سے گزارا جاتا ہے ۔ خوف وخطر میں مبتلا کرکے ، جان ومال کا نقصان دے کر ، مصائب اور آمدنیوں کے گھاٹے میں مبتلا کرکے ، اللہ طالب صادق کے عزم صمیم کا امتحان کرتے ہیں ۔ یہ آزمائشیں اس لئے ضروری ہیں کہ مؤمنین اسلامی نظریہ حیات کی ذمہ داریاں اچھی طرح پوری کرنے کے قابل ہوسکیں اور اسلامی نظریہ حیات کی راہ میں ، جتنا مصائب سے دوچار ہوں ، اسی قدر نظریہ حیات انہیں عزیز ہوتا چلاجائے۔

وہ نظریات جن کے لئے ان مجاہدین نے کوئی تکلیف نہ اٹھائی ہو نہ کوئی مصیبت برداشت کی ہو ، پائیدار نہیں ہوتے ۔ ایسے لوگ مصیبت کے پہلے مرحلے ہی میں انہیں الوداع کہہ دیتے ہیں ۔ آزمائشیں دراصل ایک نفسیاتی امتحان ہوتی ہیں ، جو ایک کارکن اپنے نظریہ حیات کے لئے پاس کرتا ہے اور اس کی وجہ سے دوسرے لوگوں سے پہلے یہ نظریہ اس کارکن کے لئے عزیز ترازجان ہوجاتا ہے ۔ کارکن نظریہ کی خاطر جب دکھ پائیں گے اور مال خرچ کریں گے تو پھر وہ اس کی قدر کریں گے اور اس کی حفاظت بھی کریں گے ۔

دوسرے لوگ بھی اس نظریے کی قدر تب ہی کریں گے جب وہ دیکھیں گے کہ اس نظریے کو ماننے والے ان پر جان دیتے ہیں اور اس کی وجہ سے آنے والی تمام مصیبتوں کو بخوشی برداشت کرتے ہیں ۔ اپنے نظریات کے لئے مصیبت اٹھانے والوں کو دیکھ کر عام تماشائی بھی یہ کہیں گے ” وہ نظریہ حیات جس کے لئے یہ لوگ لڑتے ہیں ، کوئی بڑی ہی قیمتی چیز ہے ، اگر وہ قیمتی نہ ہوتی تو یہ لوگ اس قدر عظیم قربانیاں ہرگز نہ دیتے اور ان عظیم مصائب وشدائد پر صبر نہ کرتے۔ “

ایسے حالات میں اس نظریہ حیات کے مخالفین بھی لاجواب ہوجاتے ہیں اور اس کے بارے میں تحقیق شروع کردیتے ، قدر کرنے لگتے ہیں اور خود بخود اس کی طرف کھنچے چلے آتے ہیں ۔ یہ وہ مقام ہے جس تک پہنچ جانے کے بعد اللہ کی امداد اور نصرت آپہنچتی ہے اور لوگ فوج در فوج اللہ کے دین میں داخل ہوتے ہیں ۔

آزمائش بہت ضروری ہے اس سے نظریاتی لوگوں کی قوت میں اضافہ ہوتا ہے ان کی کمر مضبوط ہوتی ہے ۔ مصائب وشداد سے ان کی خفیہ قوتیں جاگ اٹھتی ہیں ۔ ذخیرہ شدہ طاقتوں کے لئے چشمے پھوٹ پڑتے ہیں جن کے بارے میں ، ان مصائب وشدائد سے پہلے مومن کو گمان بھی نہیں ہوتا۔

اسلامی اقدار اور اسلامی تصورات اس وقت پختہ اور سیدھے نہیں ہوسکتے جب تک انہیں شدائد ومصائب کی بھٹی سے نہ گزاراجائے ۔ یہ مصائب کا نتیجہ ہی ہوتا ہے کہ کارکنوں کی آنکھیں روشن ہوجاتی ہیں اور دلوں سے میل دورہوجاتا ہے ۔

اب سے اہم ، سب سے بنیادی بات یہ ہے کہ مصائب وشدائد کی حالت میں تمام دنیاوی رابطے کٹ جاتے ہیں ۔ مختلف الاقسام اوہام اور تمنائیں غائب ہوجاتی ہیں ، دل اللہ کے لئے خالی ہوجاتا ہے بلکہ صرف اللہ کا سہارا باقی رہ جاتا ہے ۔ یہی وہ مقام ہوتا ہے ، جہاں تمام پردے ہٹ جاتے ہیں ، بصیرت کے دروازے کھل جاتے ہیں ، مطلع دور تک صاف و شفاف ہوتا ہے ، اللہ کے سوا کوئی شئے نظر نہیں آتی ، اللہ کی قوت کے سوا کوئی قوت نظروں میں نہیں جچتی ، اللہ کے سوا کسی کا کوئی اختیار نظر نہیں آتا ، اللہ ہی کی پناہ ہوتی ہے ، اس کے سوا کسی کی پناہ نہیں ہوتی ۔ اس مقام پر پہنچ کر انسانی روح اس حقیقت کے ساتھ یکجا ہوجاتی ہے ۔ یہی وہ مقام ہے جہاں قرآن کریم کی یہ آیت نفس انسانی کا ایک حصہ بن جاتی ہے ۔

وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ (155) الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُمْ مُصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ

” اور خوشخبری سنائیں ان صبر کرنے والوں کو ، جن پر کبھی مصیبت آتی ہے تو وہ کہتے ہیں ! ہم تو اللہ کے ہیں اور ہمیں اسی کی طرف لوٹنا ہے ۔ “ بیشک ہم اللہ کے لئے ہیں سب کے سب اللہ کے لئے ہیں ۔ ہمارے جسم کے اندر جو طاقتیں ہیں ، بلکہ ہمارا تمام وجود اور ہماری پوری شخصیت اللہ اور صرف اللہ کے لئے ہے ۔ ہم کو اللہ ہی طرف لوٹنا ہے ۔ تمام باتوں کا مرجع وہی ہے ۔ سر تسلیم خم ہے ۔ ہر معاملے میں سر تسلیم خم ہے !

گویا ہم صحیح تصور اور صحیح عقیدے کے ساتھ ، کائنات کی واحد سچائی اور حقیقت یعنی رب ذوالجلال کے سامنے کھڑے ہیں اور دست بدعا ہیں ۔

یہ ہیں وہ صابرین جنہیں جلیل القدر رسول ﷺ ، انعام واکرام کی خوش خبری دیتا ہے ۔ اس مقام ومرتبے کا اعلان خود رب جلیل کرتا ہے ۔