Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Fussilat 41:32

41:32
نزلا من غفور رحيم ٣٢
نُزُلًۭا مِّنْ غَفُورٍۢ رَّحِيمٍۢ ٣٢
نُزُلٗا
مِّنۡ
غَفُورٖ
رَّحِيمٖ
٣٢
寛容にして慈悲深い御方からの歓待である。」

— Ryoichi Mita

“Một sự khoan đãi từ Đấng Tha Thứ, Đấng Thương Xót.”

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 41:30 đến 41:32

یعنی اللہ کو اپنا رب کہہ کر ، استقامت کے یہ معنی ہیں کہ اس اقرار کے تقاضے پورے کئے جائیں جس طرح ان کا حق ہے۔ ضمیر میں شعور طور پر یہ عقیدہ بیٹھا ہوا ہو ، زندگی اور عمل میں اس پر گامزن ہو ، اس راہ میں اگر تکالیف آئیں تو ان کو برداشت کرے۔ اس معنے میں یہ دراصل بہت بڑا حکم ہے اور بھاری ذمہ داری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ کے ہاں پھر اس کا بہت بڑا اجر ہے کہ ملائکہ ان پر نازل ہوں گے اور ان کے ہمدم ہوں گے۔ ان کے دوست ہوں گے اور وہ جو باتیں کریں گے اللہ نے ان فرشتوں کی زبانی ان کو نقل کیا ہے۔

الا تخافوا (41 : 30) ” نہ ڈرو “ ولا تحزنوا (41 : 30) ” نہ غم کرو “۔ اور اس جنت کے لیے خوش ہوجاؤ۔ بشارت ہے تم کو جس کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا ۔ ہم اس دنیا کی زندگی میں بھی تمہارے ساتھ ہیں اور آخرت میں بھی۔ اس کے بعد یہ فرشتے پھر ان کے سامنے اس جنت کی تصویر کھینچتے ہیں جو انہیں ملنے والی ہے کہ ” وہاں جو کچھ تم چاہو گے تمہیں ملے گا اور ہر چیز جس کی تم تمنا کرو گے ، تمہاری ہوگی “۔۔۔۔ پھر وہ مزید حسن و جمال اور عزت و استقبال کا ذکر کرتے ہیں : ” یہ ہے سامان ضیافت اس ہستی کی طرف سے جو غفور و رحیم ہے “ ۔ یعنی یہ اللہ نے تمہاری ضیافت اور مہمانی کے لئے تیار کیا ہے۔ اب ان نعمتوں کے بعد اور کیا رہ جاتا ہے۔