Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Al-Jathiyah 45:21

45:21
ام حسب الذين اجترحوا السييات ان نجعلهم كالذين امنوا وعملوا الصالحات سواء محياهم ومماتهم ساء ما يحكمون ٢١
أَمْ حَسِبَ ٱلَّذِينَ ٱجْتَرَحُوا۟ ٱلسَّيِّـَٔاتِ أَن نَّجْعَلَهُمْ كَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّـٰلِحَـٰتِ سَوَآءًۭ مَّحْيَاهُمْ وَمَمَاتُهُمْ ۚ سَآءَ مَا يَحْكُمُونَ ٢١
أَمۡ
حَسِبَ
ٱلَّذِينَ
ٱجۡتَرَحُواْ
ٱلسَّيِّـَٔاتِ
أَن
نَّجۡعَلَهُمۡ
كَٱلَّذِينَ
ءَامَنُواْ
وَعَمِلُواْ
ٱلصَّٰلِحَٰتِ
سَوَآءٗ
مَّحۡيَاهُمۡ
وَمَمَاتُهُمۡۚ
سَآءَ
مَا
يَحۡكُمُونَ
٢١
あなたがたは,われが悪行を追求する者を,信仰して善行に勤しむ者と同じに扱うとでも思うのか。(不信心者たちの)生(現世)と死(来世)が同じであるとでも思うのか。かれら(不信者)の判断こそ誤算である。

— Ryoichi Mita

Hoặc lẽ nào những kẻ làm điều tội lỗi nghĩ rằng TA sẽ để chúng và những người có đức tin và hành thiện ngang bằng nhau về cuộc sống và cái chết ư? Thật tệ thay cho điều chúng phán xét!

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 45:21 đến 45:22

آیت نمبر 21 تا 22

ہو سکتا ہے کہ یہاں بدکاروں سے مراد اہل کتاب ہوں جنہوں نے اپنی کتاب سے روگردانی کی اور برائیوں کا ارتکاب کیا۔ اور سمجھتے یہی رہے کہ وہ حقیقی مومن ہیں بلکہ وہ اپنے آپ کو اہل ایمان کے برابر سمجھتے ہیں جبکہ وہ برائیوں کا ارتکاب کرتے ہیں اور مومنین نیکیوں کے کام کرتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ دونوں گروہ اللہ کے ہاں برابر ہو سکتے ہیں ، خواہ اس دنیا کا معاملہ ہو یا آخرت کا موازنہ ہو ؟ اور اس سے مراد عام اصول بیان کرنا بھی ہو سکتا ہے کہ اللہ کے پیمانوں کے مطابق نیک کام کرنے والے برے کام کرنے والے آپس میں برابر نہیں ہو سکتے ، نہ اس دنیا میں نہ آخرت کے حساب و کتاب میں۔ مومنین کا پلڑا یہاں بھی بھاری ہوگا اور آخرت میں بھی بھاری ہوگا۔ اور یہ اصول اللہ کی اس کائنات کے نقشے میں ریڑھ کی ہڈی کا مقام رکھتا ہے۔ اس پوری کائنات کی تخلیق حق پر ہوتی ہے۔ شریعت کی تشکیل بھی حق پر ہوتی ہے۔ جس چیز کے ساتھ یہ کائنات قائم ہے ، وہ توازن اور اعتدال ہے اور اسی اصول پر انسانی زندگی بھی قائم ہے یعنی عدل و انصاف جس کا اظہار اچھے کام کرنے والوں اور برے کام کرنے والوں کے درمیان فرق کر کے کیا گیا ہے۔ اور ہر شخص کو اس کے کئے کی جزاء و سزادی گئی اگر وہ نیک ہوا یا گمراہ ہوا ۔ تا کہ تمام لوگوں کے ساتھ انصاف کیا جاسکے۔

وھم لا یظلمون (45 : 22) “ اور لوگوں پر ہرگز ظلم نہ کیا جائے گا ”۔ یہ مفہوم کہ اس کائنات کی تخلیق کے اصل نقشے میں حق بنیادی چیز ہے۔ اور یہ کہ جس طرح کائنات کے اندر حق ہے ، اسی طرح شریعت کے اندر حق ہے اور یہ کہ یوم الحساب میں اسی حق پر حساب و کتاب ہوگا۔ یہ مفہوم اور مضمون قرآن میں بار بار آتا ہے کیونکہ یہ اسلامی تصور حیات کے بنیادی اصولوں میں سے ہے۔ تمام شاخیں اس اصول پر مبنی ہیں۔ انسانی نفس ، آفاق کائنات اور اسلامی شریعت سب اس سچائی پر مبنی ہیں۔ یہی ہے “ کائنات ، حیات اور انسان اور انسان اسلام کی نظر میں ” میری الگ کتاب کا موضوع۔ یہ انشاء اللہ جلد پیش ہوگی۔

٭٭٭٭

اب اس عظیم اصول کے بالمقابل اور شریعت کے بالمقابل لوگوں کی خواہشات ہوتی ہیں جو بدلتی رہتی ہیں۔ ان خواہشات کو لوگ اپنا لیتے ہیں ، ایسے لوگ گمراہی میں اس قدر دور چلے جاتے ہیں کہ ان کی ہدایت کے تمام راستے بند ہوجاتے ہیں۔