Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: An-Nisa 4:118

4:118
لعنه الله وقال لاتخذن من عبادك نصيبا مفروضا ١١٨
لَّعَنَهُ ٱللَّهُ ۘ وَقَالَ لَأَتَّخِذَنَّ مِنْ عِبَادِكَ نَصِيبًۭا مَّفْرُوضًۭا ١١٨
لَّعَنَهُ
ٱللَّهُۘ
وَقَالَ
لَأَتَّخِذَنَّ
مِنۡ
عِبَادِكَ
نَصِيبٗا
مَّفۡرُوضٗا
١١٨
アッラーはかれ(悪魔)を見限られた。だがかれは言った。「わたしはあなたのしもベの中 ,相当の部分の者をきっと連れさるでしょう。

— Ryoichi Mita

Allah đã nguyền rủa hắn (Shaytan). Và hắn đã nói: “Bề tôi quyết sẽ bắt đi trong đám bầy tôi của Ngài một phần bắt buộc .”1

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 4:116 đến 4:122

جو شخص ایک اللہ کو پکڑ لے اس کے عمل کی جڑیں خدا میں قائم ہوجاتی ہیں۔ اس سے وقتی لغزش بھی ہوتی ہے۔ مگر اس کے بعد جب وہ پلٹتا ہے تو دوبارہ وہ حقیقی سرے کو پالیتا ہے۔ اور جو شخص اللہ کے سوا کہیں اور اٹکا ہوا ہو وہ گویا اس زمین سے محروم ہے جو اس کائنات میں واحد حقیقی زمین ہے۔ بظاہر اگر وہ کوئی اچھا عمل کرے تب بھی وہ خدا کے سرچشمہ سے نکلا ہوا عمل نہیں ہوتا۔ بلکہ وہ ایک اوپری عمل ہوتا ہے جو معمولی جھٹکا لگتے ہی باطل ثابت ہوجاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ توحید کے ساتھ کیا ہوا عمل آخرت میں اپنا نتیجہ دکھاتا ہے اور شرک کے ساتھ کیا ہوا عمل اسی دنیا میں برباد ہو کر رہ جاتا ہے، وہ آخرت تک نہیں پہنچتا۔

اس دنیا میں آدمی کا اصلی مقابلہ شیطان سے ہے۔ تاہم شیطان کے پاس کوئی طاقت نہیں۔ وه اتنا کرسکتا ہے کہ آدمی کو لفظی وعدوں کا فریب دے اور فرضی تمناؤں میںالجھائے۔ اور اس طرح لوگوں کو حق سے دور کردے۔ شیطان کی گمراہی کی دو خاص صورتیں ہیں۔ ایک، توہم پرستی اور دوسرے، خدا کی تخلیق میں فرق کرنا۔ توہم پرستی یہ ہے کہ کسی چیز سے ایسے نتیجہ کی امید کرلی جائے جس نتیجہ کا کوئی تعلق اس سے نہ ہو۔ مثلاً خود ساختہ مفروضوں کی بنیاد پر اللہ کے سوا کسی اورچیز کو معاملات میں مؤثر مان لینا، حالاں کہ اس دنیا میں اللہ کے سوا کسی کے پاس کوئی طاقت نہیں۔ یا زندگی کو عملاً دنیا کے حصول میں لگا دینا اور آخرت کے بارے میں فرضی خوش خیالیوں کی بنا پر یہ امید قائم کرلینا کہ وہ اپنے آپ حاصل ہوجائے گی۔ شیطان کے بہکاوے کا دوسرا طریقہ اللہ کے بتائے ہوئے نقشہ کو بدلنا ہے۔ خدا نے انسان کو اس فطرت پر پیدا کیا ہے کہ وہ اپنی تمام توجہ کو اللہ کی طرف لگائے، اس فطرت کو بدلنا یہ ہے کہ انسان کی توجہات کو دوسری دوسری چیزوں کی طرف مائل کردیا جائے۔ یا کسی مقصد کے حصول کا جو طریقہ فطری طورپر مقرر کیا گیا ہے اس کو بدل کر کسی خود ساختہ طریقے سے اس کو حاصل کرنے کی کوشش کی جائے۔ کائنات کے خدائی نقشہ کی مطابقت میں انسان کو جس طرح رہنا چاہیے اس نقشہ کو ناپيد کردیا جائے۔