Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Al-Hashr 59:21

59:21
لو انزلنا هاذا القران على جبل لرايته خاشعا متصدعا من خشية الله وتلك الامثال نضربها للناس لعلهم يتفكرون ٢١
لَوْ أَنزَلْنَا هَـٰذَا ٱلْقُرْءَانَ عَلَىٰ جَبَلٍۢ لَّرَأَيْتَهُۥ خَـٰشِعًۭا مُّتَصَدِّعًۭا مِّنْ خَشْيَةِ ٱللَّهِ ۚ وَتِلْكَ ٱلْأَمْثَـٰلُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ ٢١
لَوۡ
أَنزَلۡنَا
هَٰذَا
ٱلۡقُرۡءَانَ
عَلَىٰ
جَبَلٖ
لَّرَأَيۡتَهُۥ
خَٰشِعٗا
مُّتَصَدِّعٗا
مِّنۡ
خَشۡيَةِ
ٱللَّهِۚ
وَتِلۡكَ
ٱلۡأَمۡثَٰلُ
نَضۡرِبُهَا
لِلنَّاسِ
لَعَلَّهُمۡ
يَتَفَكَّرُونَ
٢١
もしもわれがこのクルアーンを山に下したならば,それはきっと遜って,アッラーを恐れて粉々に砕けるのを見るであろう。こんな譬えを,われは人間に示すのは,恐らくかれらが熟考するであろうと思うからである。

— Ryoichi Mita

Nếu TA truyền Qur’an này xuống cho một quả núi thì Ngươi (hỡi Thiên Sứ Muhammad) sẽ thấy nó hạ mình và vỡ tan vì khiếp sợ Allah. Đó là các hình ảnh thí dụ mà TA trình bày cho nhân loại mong rằng họ biết suy ngẫm.

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith

یہ ایک تمثیل ہے لیکن ایک حقیقت کو بطول مثال پیش کیا گیا ہے۔ یہ قرآن ایک عظیم وزن رکھتا ہے۔ اس کے اندر بہت بڑی قوت ہے ، بےپناہ اثر کا مالک ہے ، اور اس کے مقابلے میں کوئی چیز ثابت قدم نہیں رہ سکتی۔ جس پر اس کا وزن پڑے تو متزلزل ہوجاتا ہے ، پاش پاش ہوجاتا ہے۔ حضرت عمر ؓ نے جب پہلی مرتبہ اسے پڑھا تو وہ پاش پاش ہوگئے اور جب وہ ایک رات سننے والے سے سن رہے تھے۔

والطور ........................ ربک لواقع (7) (25 : 1 تا 7) ” قسم ہے طور کی اور ایک ایسی کھلی کتاب کی جو رقیق جلد میں لکھی ہوئی ہے اور آباد گھر کی ، اور اونچی چھت کی ، اور موجزن سمندر کی ، کہ تیرے رب کا عذاب ضرور واقع ہونے والا ہے جسے کوئی دفع کرنے والا نہیں “۔ تو حضرت عمر ؓ دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھ گئے۔ اس کے بعد وہ گھر کو واپس آئے اور اس قدر غم زدہ ہوگئے کہ لوگ ایک ماہ تک ان کی عبادت کرتے رہے۔

بعض ایسے لمحات آتے ہیں کہ انسان کا دل قرآنی معارف کے لئے کھل جاتا ہے تو قرآن کا اثر اس قدر تیز ہوتا ہے کہ انسان ہلامارا جاتا ہے اور اس پر کپکپی طاری ہوجاتی ہے اور انسان کے اندر اس قدر تغیرات اور تبدیلیاں آجاتی ہیں جس طرح مقناطیس اور بجلی کا اثر لوہے اور جسم پر ہوتا ہے بلکہ اس سے بھی شدید اثر ہوتا ہے۔

اللہ خالق الجبال بھی ہے اور منزل القرآن بھی۔ اللہ کا فرمان ہے۔

لو انزلنا ................ خشیة اللہ (95 : 12) ” اگر ہم نے یہ قرآن کسی پہاڑ پر بھی اتاردیا ہوتا تو تم دیکھتے کہ وہ اللہ کے خوف سے دبا جارہا ہے اور پھٹا پڑتا ہے “۔ جن لوگوں نے قرآن کریم کی اس نوعیت کے اثرات کو اپنے جسم میں محسوس کیا ہے وہی اس حقیقت کو سمجھ سکتے ہیں لیکن ان کا ذوق اور ان کا احساس الفاظ میں بیان نہیں کیا جاسکتا۔

اور اس سورت کے آخر میں خدائے رحمن ورحیم کی تعریف اور تسبیح آتی ہے ، جب انسان کی ذات پر قرآن کریم کا کسی قدر اثر ہوجاتا ہے تو وہ تسبیح کرنے لگتا ہے اور یہ اسمائے حسنیٰ ایسے ہیں جن کے آثار کائنات میں واضح نظر آتے ہیں کیونکہ اللہ کے اسمائے صفات کائنات کے مظاہر اور اس کی حرکت میں نظر آتے ہیں :