تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: القدر ٢:٩٧

٢:٩٧
وما ادراك ما ليلة القدر ٢
وَمَآ أَدْرَىٰكَ مَا لَيْلَةُ ٱلْقَدْرِ ٢
وَمَآ
أَدۡرَىٰكَ
مَا
لَيۡلَةُ
ٱلۡقَدۡرِ
٢
وما أدراك -أيها النبي- ما ليلة القدر والشرف؟
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 96:1إلى 97:5

سال کی ایک خاص رات (غالباً ماہ رمضان کے اخیر عشرہ کی کوئی رات) اللہ تعالیٰ کے یہاں فیصلہ کی رات ہے۔ دنیا کے انتظام کے متعلق جو کام اس سال میں مقدر ہیں ان کے نفاذ کی تعیین کے لیے اس رات کو فرشتے اترتے ہیں۔ اس قسم کی ایک خاص رات میں قرآن کا نزول شروع ہوا۔

بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس رات کو زمین پر فرشتوں کی کثرت ہوتی ہے۔ اس سے زمین پر خاص طرح کا روحانی ماحول پیدا ہوتا ہے۔ اب جو لوگ اپنے اندر روحانیت بیدار کیے ہوئے ہوں وہ اس سے متاثر ہوتے ہیں اور اس کے نتیجہ میں ان کے اندر غیر معمولی روحانی تاثیر پیدا ہوجاتی ہے جو ان کے دیني عمل کی قدروقیمت عام حالات سے بہت زیادہ بڑھا دیتی ہے۔