Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: At-Tawbah 9:118

9:118
وعلى الثلاثة الذين خلفوا حتى اذا ضاقت عليهم الارض بما رحبت وضاقت عليهم انفسهم وظنوا ان لا ملجا من الله الا اليه ثم تاب عليهم ليتوبوا ان الله هو التواب الرحيم ١١٨
وَعَلَى ٱلثَّلَـٰثَةِ ٱلَّذِينَ خُلِّفُوا۟ حَتَّىٰٓ إِذَا ضَاقَتْ عَلَيْهِمُ ٱلْأَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ وَضَاقَتْ عَلَيْهِمْ أَنفُسُهُمْ وَظَنُّوٓا۟ أَن لَّا مَلْجَأَ مِنَ ٱللَّهِ إِلَّآ إِلَيْهِ ثُمَّ تَابَ عَلَيْهِمْ لِيَتُوبُوٓا۟ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ هُوَ ٱلتَّوَّابُ ٱلرَّحِيمُ ١١٨
وَعَلَى
ٱلثَّلَٰثَةِ
ٱلَّذِينَ
خُلِّفُواْ
حَتَّىٰٓ
إِذَا
ضَاقَتۡ
عَلَيۡهِمُ
ٱلۡأَرۡضُ
بِمَا
رَحُبَتۡ
وَضَاقَتۡ
عَلَيۡهِمۡ
أَنفُسُهُمۡ
وَظَنُّوٓاْ
أَن
لَّا
مَلۡجَأَ
مِنَ
ٱللَّهِ
إِلَّآ
إِلَيۡهِ
ثُمَّ
تَابَ
عَلَيۡهِمۡ
لِيَتُوبُوٓاْۚ
إِنَّ
ٱللَّهَ
هُوَ
ٱلتَّوَّابُ
ٱلرَّحِيمُ
١١٨
後に残った3人に対しても(またかれは哀れみをかけられた)。大地はこのように広いのだがかれらには狭く感じられ,またその魂も自分を(内面から)狭めるようになった。そしてかれらは,アッラーに縋る外にはかれ(の懲罰)から免れるすべがないことを悟った。すると(主は )哀れみをかけられ,かれらは悔悟して(かれに)返った。本当にアッラーは度々赦される方,慈悲深い方であられる。

— Ryoichi Mita

(Cuối cùng, Allah cũng đã tha thứ) cho ba người (Ka’ab, Murarah và Hilal) đã không tham chiến (trận Tabuk, nhưng đã rất hối hận về lỗi lầm của họ). (Họ đã cảm thấy nặng lòng) đến mức trái đất tuy rộng bao la nhưng lại chật hẹp đối với linh hồn của họ và họ nhận thấy không còn chỗ nào để chạy trốn khỏi Allah trừ phi phải chạy đến tạ tội với Ngài. Rồi Ngài đã mở cho họ cơ hội sám hối để họ có dịp ăn năn. Thật vậy, Allah là Đấng Hằng Chấp Nhận sự sám hối, Đấng Nhân Từ.

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 9:117 đến 9:118

غزوۂ تبوک کے موقع پر ایک گروہ وہ نکلا جس نے اپنا بہترین اثاثہ اسلام کے حوالے کردیا۔ ان کی فصل کٹنے کے ليے تیار تھی مگر وہ اس کو چھوڑ کر ایک ایسے سفر پر روانہ ہوگئے جس میں سخت گرمی کے تین سو میل طے کرکے وقت کی سب سے بڑی طاقت ورسلطنت کا مقابلہ کرنا تھا۔ سامان کی کمی کا یہ حال تھا کہ ایک ایک اونٹ پر کئی کئی آدمیوں کی باری لگی ہوئی تھی۔کھانے کے ليے بعض اوقات صرف ایک کھجور ایک آدمی کے حصہ میں آتی تھی۔ تاہم یہ انتہائی سخت مرحلہ صرف ارادوں کے امتحان کے ليے سامنے لایا گیا تھا۔ جب ارادہ کرنے والوں نے ارادہ کا ثبوت دے دیا تو خدا نے دشمن کے اوپر رعب طاری کردیا۔ وہ مقابلہ کے میدان سے ہٹ گئے اور مسلمان خون بہائے بغیر کامیاب وکامراں ہو کر واپس آگئے۔(صحیح مسلم، حدیث نمبر 2769)

دوسرا طبقہ معترفین (التوبہ، 9:102 ) کا تھا۔ یہ لوگ اپنے دنیوی مشاغل کی وجہ سے سفر پر روانہ نہ ہوسکے۔ تاہم فوراً ہی بعد ان کو محسوس ہوگیا کہ انھوں نے غلطی کی ہے۔ ان کے اندر اعتراف اور شرمندگی کی آگ بھڑک اٹھی۔ ان کے آنسوؤں کی کثرت نے ان کے عمل کی کمی کی تلافی کردی۔ خدا نے ان کو بھی اپنی رحمتوں کے سایہ میں جگہ دے دی۔ کیوں کہ انھوں نے عاجزانہ طورپر اپنی غلطی کو مان لیا۔

تیسرا گروہ مخلّفین(التوبہ، 9:118 ) کا تھا۔ یہ تین نوجوان کعب بن مالک، مرارۃ بن رُبیع، ہلال بن اُمیۃ تھے۔ وہ اگرچہ سفر پر نہ نکلنے کو اپنی کوتاہی سمجھتے تھے مگر ان کے اندر توبہ و انابت کا اتنا شدید احساس پہلے مرحلہ میں نہیں ابھرا تھا جو مطلوبہ معیار کے مطابق ہو۔ چنانچہ ان کے ساتھ معاشرتی بائیکاٹ کا معاملہ کیاگیا۔ یہ لوگ اس مقاطعہ کے باوجود مطمئن رہ سکتے تھے۔ وہ اپنے گھر اور اپنے باغوں میں مشغول ہوجاتے۔ وہ برہمی اور ناوفاداری کے راستوں پر چلنا شروع کردیتے۔ وہ ناراض عناصر کے ساتھ مل کر اپنی علیحدہ جمعیت بنالیتے۔ وہ عام مسلمانوں سے الگ اپنا ایک جزیرہ بنا کر اس کے اندر اپنی خوشیوں کی دنیا بسا سکتے تھے۔ مگر انھوں نے ایسا نہیں کیا۔ خدا و رسول سے دوری کے احساس نے ان کو اس قدر پریشان کردیا کہ نہ باہر ان کے ليے سکون کی کوئی جگہ نظر آئی اور نہ اپنے دل کے اندر ان کے ليے سکون کا کوئی گوشہ باقی رہا۔ با الفاظ دیگر ان کی پریشانی اختیارانہ تھی، نہ کہ مجبورانہ۔ ان کی اس روش کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کا دل پگھل اٹھا۔ 50 دن میں وہ توبہ وانابت کے مطلوبہ معیار پر پہنچ گئے۔ اس کے بعد انھیں بھی معاف کردیاگیا۔