Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Al-Hajj 22:67

22:67
لكل امة جعلنا منسكا هم ناسكوه فلا ينازعنك في الامر وادع الى ربك انك لعلى هدى مستقيم ٦٧
لِّكُلِّ أُمَّةٍۢ جَعَلْنَا مَنسَكًا هُمْ نَاسِكُوهُ ۖ فَلَا يُنَـٰزِعُنَّكَ فِى ٱلْأَمْرِ ۚ وَٱدْعُ إِلَىٰ رَبِّكَ ۖ إِنَّكَ لَعَلَىٰ هُدًۭى مُّسْتَقِيمٍۢ ٦٧
لِّكُلِّ
أُمَّةٖ
جَعَلۡنَا
مَنسَكًا
هُمۡ
نَاسِكُوهُۖ
فَلَا
يُنَٰزِعُنَّكَ
فِي
ٱلۡأَمۡرِۚ
وَٱدۡعُ
إِلَىٰ
رَبِّكَۖ
إِنَّكَ
لَعَلَىٰ
هُدٗى
مُّسۡتَقِيمٖ
٦٧
われは凡てのウンマに守られるべき儀式を定めた。それでこれに関し,かれらにあなたと論争させてはならない。あなたの主に(かれらを)招きなさい。本当にあなたは,正しい導きの上にいる。

— Ryoichi Mita

TA đã quy định cho mỗi cộng đồng một nghi thức thờ phượng để họ theo đó mà thực hiện. Cho nên, Ngươi (Thiên Sứ Muhammad) chớ để cho họ (những kẻ đa thần) tranh luận với Ngươi trong sự việc này. Tuy nhiên, Ngươi hãy kêu gọi họ đến với Thượng Đế của Ngươi bởi Ngươi thực sự đang ở trên Chính Đạo.

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 22:67 đến 22:70

عبادت کے دو پہلو ہیں۔ ایک اس کی اندرونی حقیقت اور دوسرے اس کا ظاہری طریقہ۔ اندرونی حقیقت عبادت کا اصل جزء ہے اور ظاہری طریقہ اس کا اضافی جزء۔ مگر کوئی گروہ جب لمبی مدت تک اس پر کاربند رہتاہے تو وہ اس فرق کو بھول جاتاہے۔ وہ عبادت کی ظاہری تعمیل ہی کو اصل عبادت سمجھ لیتا ہے۔

اسی کا نام جمود (stagnation)ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کی یہ سنت رہی ہے کہ جب وہ اگلا پیغمبر بھیجتا ہے تو وہ اس کی شریعت (ظاہری طریقہ) میں کچھ فرق کردیتاہے۔ اس فرق کا مقصد یہ ہوتاہے کہ لوگوں کے جمود کو توڑا جائے۔ لوگوں کو ظاہرپرستی کی حالت سے نکال کر زندہ عبادت کرنے والا بنایا جائے۔ اب جولوگ ظاہری آداب وقواعد ہی کو سب کچھ سمجھے ہوئے ہوں وہ پیغمبر کی اطاعت سے انکار کردیتے ہیں۔ اس کے برعکس، جو لوگ عبادت کی حقیقت کو جانتے ہیں وہ پیغمبر کے کہنے پر عمل کرنے لگتے ہیں۔ یہ تبدیلی ان کی عبادت میں نئی روح پیدا کردیتی ہے۔ وہ ان کو جامد ایمان کی حالت سے نکال کرزندہ ایمان کی حالت تک پہنچا دیتی ہے۔

یہی وہ خاص حکمت ہے جس کی بناپر ایک پیغمبر اور دوسرے پیغمبر کے منسک (طریقِ عبادت) میں بعض فرق رکھا گیا۔ جب کوئی پیغمبر نیا منسک لایا تو جمود میں پڑے ہوئے لوگوں نے اس کے خلاف سخت اعتراضات نکالنے شروع کئے۔ مگر پیغمبروں کو یہ حکم تھا کہ وہ ان امور کو موضوع بحث نہ بننے دیں۔ وہ اصلی اور بنیادی تعلیمات پر اپنی ساری توجہ صرف کریں اور اس كي طرف لوگوں كو دعوت ديں۔