Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Adh-Dhariyat 51:25

51:25
اذ دخلوا عليه فقالوا سلاما قال سلام قوم منكرون ٢٥
إِذْ دَخَلُوا۟ عَلَيْهِ فَقَالُوا۟ سَلَـٰمًۭا ۖ قَالَ سَلَـٰمٌۭ قَوْمٌۭ مُّنكَرُونَ ٢٥
إِذۡ
دَخَلُواْ
عَلَيۡهِ
فَقَالُواْ
سَلَٰمٗاۖ
قَالَ
سَلَٰمٞ
قَوۡمٞ
مُّنكَرُونَ
٢٥
かれらはかれ(イブラーヒーム)の家に入って,「平安あれ。」と言った時,かれも「平安あれ。見知らぬ方々よ。」と答えた。

— Ryoichi Mita

Khi vào gặp (Ibrahim), họ lên tiếng chào Salam. (Ibrahim) đáp lại lời chào Salam (và nói thầm trong lòng: Đây là những người lạ, mình không quen biết họ.”

— Rowwad Translation Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 51:24 đến 51:25

اس دوسرے حصے میں بھی نبیوں کی تاریخ سے آیات الٰہیہ کا ذکر ہے جس طرح پہلے حصے میں آیات تکوینی اور آیات ونفس کا ذکر ہوا تھا اور یہ بھی اللہ کے سچے وعدے تھے اور انہوں نے حقیقت کا روپ اختیار کیا جس طرح پہلے حصے میں اللہ کے سچے وعدے کا ذکر تھا۔

بات کا آغاز حضرت ابراہیم کے مہمانوں کے بارے میں ایک سوال سے ہوتا ہے۔

ھل اتک حدیث ضیف ابراھیم المکرمین (51 : 42) ” اے نبی کیا ابراہیم .... کے معزز مہمانوں کی حکایت بھی تمہیں پہنچی ہے ؟ “ اس سوال میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ذہنوں کو اس حکایت کے لئے تیار اور متوجہ کرنا ہے اور مہمانوں کے لئے ” مکرمین “ کا لفظ استعمال ہوا ہے یا تو وہ اللہ کے نزدیک مکرم اور معزز تھے یا اس طرف اشارہ ہے کہ وہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے معزز مہمان تھے اور انہوں نے ان کی تکریم کی۔

اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کس قدر کریم اور تخی تھے اور کس طرح مہمان نوازی پر مال لٹاتے تھے۔ ادھر سے مسلمان آتے ہیں ان کو سلام کرتے ہیں اور وہ بھی سلام کرتے ہیں۔ آپ ان مہمانوں کو پہچانتے نہیں اور علیک سلیک کے بعد اہلیہ کو جاکر کھانا تیار کرنے کا حکم دیتے ہیں اور یہ کھانا بھی آناً فاناً تیار ہوتا ہے اور جلدی ایک وافر مقدار میں ایک بھنا ہوا بچھڑا مہمانوں کے سامنے حاضر ہے جو دسیوں آدمیوں کے لئے کافی ہے۔