Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Adh-Dhariyat 51:54

51:54
فتول عنهم فما انت بملوم ٥٤
فَتَوَلَّ عَنْهُمْ فَمَآ أَنتَ بِمَلُومٍۢ ٥٤
فَتَوَلَّ
عَنۡهُمۡ
فَمَآ
أَنتَ
بِمَلُومٖ
٥٤
それで,かれらを避けて去れ。あなたがたは(かれらの行いに対して)咎めはないのである。

— Ryoichi Mita

Vì vậy, Ngươi (hỡi Thiên Sứ Muhammad) hãy mặc kệ bọn chúng, Ngươi không bị khiển trách (về điều đó).

— Rowwad Translation Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 51:52 đến 51:54

کذلک ما ........ بملوم (25) وذکر ........ المؤمنین (55) (15 : 25 تا 55)

” یونہی ہوتا رہا ہے ان سے پہلے کی قوموں کے پاس بھی کوئی رسول ایسا نہیں آیا جسے انہوں نے یہ نہ کہا ہو کہ یہ ساحر ہے یا مجنون۔ کیا ان سب نے آپس میں اس پر کوئی سمجھوتہ کرلیا ہے ؟ نہیں بلکہ یہ سب سرکش لوگ ہیں۔ پس اے نبی ان سے رخ پھیر لو تم پر کچھ ملامت نہیں۔ البتہ نصیحت کرتے رہو کیونکہ نصیحت ایمان لانے والوں کے لئے نافع ہے “۔

تمام رسولوں کے مخالفین اور مکذبین کی فطرت ایک ہی رہی ہے۔ گمراہوں نے ہمیشہ رسولوں کی دعوت کے مقابلے میں یکساں رد عمل کا اظہار کیا۔

کذلک ........ او مجنون (15 : 25)

” یونہی ہوتا رہا ہے ان سے پہلے کی قوموں کے پاس بھی کوئی رسول ایسا نہیں آیا جسے انہوں نے یہ نہ کہا ہو کہ یہ ساحر ہے یا مجنون “۔

جس طرح مشرکین مکہ کہہ رہے ہیں۔ گویا اگلے پچھلے کافروں نے آپس میں مشورہ کرلیا ہو۔ انہوں نے آپس میں مشورہ تو نہیں کیا مگر سرکشی ، گمراہی ، ظلم کا مزاج ہی ایک ہوتا ہے۔ اس لئے اگلے پچھلے اس روش پر جمع ہوگئے ہیں۔

منکرین کے مسلسل ایک ہی موقف سے جو نتیجہ نکلتا ہے وہ یہی ہے کہ رسول ﷺ ان لوگوں کی تکذیب کی کوئی پرواہ نہ کریں۔ ان لوگوں نے اس رویہ پر گویا اتفاق کرلیا ہے لہٰذا رسول ﷺ اس پر ملامت زدہ نہیں ہیں۔ ان کو چاہئے کہ کوئی پرواہ نہ کریں۔ وہ تو محض یاد دہانی کرانے والے ہیں اور یاد دہانی وہ جاری رکھیں۔ اگرچہ لوگ اعتراض کریں اور منہ موڑیں۔