Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Al-Ahzab 33:19

33:19
اشحة عليكم فاذا جاء الخوف رايتهم ينظرون اليك تدور اعينهم كالذي يغشى عليه من الموت فاذا ذهب الخوف سلقوكم بالسنة حداد اشحة على الخير اولايك لم يومنوا فاحبط الله اعمالهم وكان ذالك على الله يسيرا ١٩
أَشِحَّةً عَلَيْكُمْ ۖ فَإِذَا جَآءَ ٱلْخَوْفُ رَأَيْتَهُمْ يَنظُرُونَ إِلَيْكَ تَدُورُ أَعْيُنُهُمْ كَٱلَّذِى يُغْشَىٰ عَلَيْهِ مِنَ ٱلْمَوْتِ ۖ فَإِذَا ذَهَبَ ٱلْخَوْفُ سَلَقُوكُم بِأَلْسِنَةٍ حِدَادٍ أَشِحَّةً عَلَى ٱلْخَيْرِ ۚ أُو۟لَـٰٓئِكَ لَمْ يُؤْمِنُوا۟ فَأَحْبَطَ ٱللَّهُ أَعْمَـٰلَهُمْ ۚ وَكَانَ ذَٰلِكَ عَلَى ٱللَّهِ يَسِيرًۭا ١٩
أَشِحَّةً
عَلَيۡكُمۡۖ
فَإِذَا
جَآءَ
ٱلۡخَوۡفُ
رَأَيۡتَهُمۡ
يَنظُرُونَ
إِلَيۡكَ
تَدُورُ
أَعۡيُنُهُمۡ
كَٱلَّذِي
يُغۡشَىٰ
عَلَيۡهِ
مِنَ
ٱلۡمَوۡتِۖ
فَإِذَا
ذَهَبَ
ٱلۡخَوۡفُ
سَلَقُوكُم
بِأَلۡسِنَةٍ
حِدَادٍ
أَشِحَّةً
عَلَى
ٱلۡخَيۡرِۚ
أُوْلَٰٓئِكَ
لَمۡ
يُؤۡمِنُواْ
فَأَحۡبَطَ
ٱللَّهُ
أَعۡمَٰلَهُمۡۚ
وَكَانَ
ذَٰلِكَ
عَلَى
ٱللَّهِ
يَسِيرٗا
١٩
かれらはあなたに対して,貪欲である。まあ見るがいい。かれらに危険が訪れると,臨終の人のように目玉をぐるっと廻して,あなたを熟視する。そして危険が去ると良いものばかり貪り ,唇を尖らせてあなたがたを痛烈に非難する。これらの者は信者ではない。アッラーは,かれらの行いを無益になされる。それはアッラーには容易なことである。

— Ryoichi Mita

Bọn họ đê tiện với các ngươi (những người có đức tin). Khi xảy ra cảnh hãi hùng (của chiến tranh) thì Ngươi sẽ thấy bọn họ dáo dác nhìn Ngươi, cặp mắt của bọn họ đảo quanh giống như cặp mắt của một kẻ thất thần sắp chết. Nhưng khi cơn nguy khốn đã qua thì bọn họ mắng nhiếc các ngươi (những người có đức tin) bằng lời lẽ thậm tệ, chỉ muốn hưởng lợi từ chiến lợi phẩm. Bọn họ là những kẻ vô đức tin nên Allah làm cho mọi việc làm của bọn họ trở thành vô nghĩa, và điều đó đối với Allah thật đơn giản và dễ dàng.

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith

اشحۃ علیکم (33: 19) ” “۔ ان کے دلوں میں مسلمانوں کے خلاف بغض اور دشمنی بھری ہوئی ہے۔ یہ مسلمانوں کے ساتھ جہاد میں بھی بخیل ہیں ، مالی امداد میں بھی بخیل ہیں اور اچھی نیت اور اچھی خواہشات میں بھی بخیل ہیں۔

فاذا جآء الخوف ۔۔۔۔۔ علیہ من لموت (33: 19) ” “۔ یہ ایک واضح تصویر ہے جس کے خدوخال واضح ہیں ، جس کے اعضاء متحرک ہیں ، لیکن ان خصوصیات کے ساتھ ساتھ یہ تصویر مضحکہ انگیز ہے۔ اس سے ان کی بزدلی ٹپکتی پڑتی ہے۔ اس قدر بزدل کہ مارے خوف کے ان کے اعضاء کانپ رہے ہیں اور ان کے پورے جسم پر رعشہ طاری ہے۔ لیکن جب خوف چلا جاتا ہے تو ان کی تصویر زیادہ مضحکہ انگیز ہوجاتی ہے۔

فاذا ذھب الخوف سلقوکم بالسنۃ حداد (33: 19) ” “۔ یہ سوراخوں سے نکل آتے ہیں ، ان کے آوازیں بلند ہوجاتی ہیں حالانکہ پہلے ان پر رعشہ طاری تھا۔ ان کی گردن کی رگیں پھول جاتی ہیں اور وہ اپنے آپ کو بہت بڑا سمجھتے ہیں۔ پہلے تو سکڑ گئے تھے ، اب پھول گئے اور بغیر شرم و حیاء کے لمبے لمبے دعوے کرنے لگے کہ ہم نے یہ یہ مشقتیں برداشت کیں۔ یہ یہ جنگیں کیں اور یہ یہ فضائل اعمال کیے اور اس قدر شجاعت اور بہادری دکھائی۔ ۔۔ اور پھر یہ لوگ۔

اشحۃ علی الخیر (33: 19) ” “۔ یہ کسی بھلائی کے کام میں کچھ خرچ نہیں کرتے۔ نہ اپنی قوت ، نہ اپنا عمل ، نہ اپنی دولت اور نہ اپنی جان ۔۔۔ حالانکہ وہ بہت بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں ۔ ان کی زبان تیز ہے اور اپنے آپ کو بہت ہی بڑا سمجھتے ہیں۔ اس قسم کے لوگ کسی ایک قوم قبیلے تک محدود نہیں ہیں۔ یہ ہمیشہ ہر معاشرے میں رہتے ہیں۔ اس قسم کے لوگ بڑے بہادر ، فصیح اللسان اور چیلنج کرنے والے ہوتے ہیں بشرطیکہ وہاں امن ہو۔ اور اگر خوف اور شدید خطرہ ہو تو یہ بخیل ، بزدل ، خاموش اور پیچھے پیچھے رہنے والے۔ یہ لوگ ہر بھلائی اور ہر خیر کے معاملے میں بہت ہی بخیل ہوتے ہیں بس زبانی کلامی یہ ہر کام میں حصہ لیتے ہیں۔

اولئک لم یومنوا فاحبط اللہ اعمالھم (33: 19) ” “۔ ان کی منافقت کا پہلا سبب یہ ہے کہ ایمان ان کے دلوں ہی میں نہیں اترا اور ایمان کی روشنی میں انہوں نے اپنا راستہ تلاش کیا۔ نہ یہ لوگ ایمان کے طریقوں پر چلنے والے ہیں ۔ اس لیے اللہ نے ان کے اعمال ضائع کر دئیے ہیں اور یہ کامیاب نہیں کیونکہ کامیابی کا اصلی مواد ہی ان کے پاس نہیں ہے۔

وکان ذلک علی اللہ یسیرا (33: 19) ” “۔ اللہ کے لیے کوئی کام مشکل نہیں ، بس سمجھ لو کہ ان کے اعمال ضائع ہوگئے۔ رہا یہ کہ یوم الاحزاب میں ان کی حالت کیا تھی اور ان کی سوچ کیا تھی۔