Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Al-Ahzab 33:55

33:55
لا جناح عليهن في ابايهن ولا ابنايهن ولا اخوانهن ولا ابناء اخوانهن ولا ابناء اخواتهن ولا نسايهن ولا ما ملكت ايمانهن واتقين الله ان الله كان على كل شيء شهيدا ٥٥
لَّا جُنَاحَ عَلَيْهِنَّ فِىٓ ءَابَآئِهِنَّ وَلَآ أَبْنَآئِهِنَّ وَلَآ إِخْوَٰنِهِنَّ وَلَآ أَبْنَآءِ إِخْوَٰنِهِنَّ وَلَآ أَبْنَآءِ أَخَوَٰتِهِنَّ وَلَا نِسَآئِهِنَّ وَلَا مَا مَلَكَتْ أَيْمَـٰنُهُنَّ ۗ وَٱتَّقِينَ ٱللَّهَ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍۢ شَهِيدًا ٥٥
لَّا
جُنَاحَ
عَلَيۡهِنَّ
فِيٓ
ءَابَآئِهِنَّ
وَلَآ
أَبۡنَآئِهِنَّ
وَلَآ
إِخۡوَٰنِهِنَّ
وَلَآ
أَبۡنَآءِ
إِخۡوَٰنِهِنَّ
وَلَآ
أَبۡنَآءِ
أَخَوَٰتِهِنَّ
وَلَا
نِسَآئِهِنَّ
وَلَا
مَا
مَلَكَتۡ
أَيۡمَٰنُهُنَّۗ
وَٱتَّقِينَ
ٱللَّهَۚ
إِنَّ
ٱللَّهَ
كَانَ
عَلَىٰ
كُلِّ
شَيۡءٖ
شَهِيدًا
٥٥
かの女たちが(ヴェールをとっても)罪ではないのは,かの女らの父または息子,それから兄弟,兄弟の息子または姉妹の息子,または同信の女たちとかの女たちの右手が所有する者たちである。(婦人たちよ。)アッラーを畏れなさい。アッラーは本当に凡てのことの立証者であられる。

— Ryoichi Mita

Họ (những người vợ của Nabi) không mắc tội (khi không mặc Hijab) trước mặt cha, con trai, anh em trai, con trai của anh chị em ruột, những phụ nữ giúp việc, và những người nô lệ nằm dưới quyền quản lý của họ. (Hỡi những người vợ của Nabi!) Các ngươi hãy kính sợ Allah, quả thật, Allah luôn giám sát mọi việc.

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith

لاجناح علیھن ۔۔۔۔۔ کل شئ شھیدا (55) ” “۔

یہ وہی محرم ہیں جن کے سامنے تمام مسلمان عورتوں کو حجاب نہ کرنے کی اجازت ہے۔ یہ معلوم نہیں کہ ان دو آیات میں سے کون سے پہلے نازل ہوئی ہے۔ یعنی یہ آیت جو ازواج نبی کے ساتھ مخصوص ہے یا سورة نور کی وہ عام آیت جو تمام مسلم عورتوں کے لیے ہے۔ راجح بات یہ ہے کہ پہلے حکم ازواج مطہرات کے لیے آیا اور پھر عام مسلم عورتوں کے لیے اور یہ اللہ کی طرف سے فرائض عائد کیے جانے کے مزاج کے مطابق ہے۔

اس اجازت کو بھی خدا کے خوف کے ساتھ مربوط کیا گیا ہے۔ اللہ سے ڈرو ، اللہ ہر چیز سے خبردار ہے۔ تقویٰ اور اللہ کی نگرانی کو ذہن میں رکھنا ایسے مقامات پر بالعموم زکوہ ہوتا ہے کیونکہ تقویٰ ہر برائی سے بچنے کی آخری ضمانت ہے۔ یہ وہ نگران ہے جو ہر وقت دل و دماغ کی نگرانی کرتا ہے۔

سیاق کلام لوگوں کو اس بات سے ڈرانے میں ذرا مزید آگے بڑھتا ہے کہ وہ رسول اللہ کو اذیت نہ دیں ۔ نہ آپ کی ذات کے معاملے میں اور نہ آپ کے خاندان کے معاملے میں۔ اس کام کے گھناؤ نے پن کو مزید وضاحت سے بیان کیا جاتا ہے اور یہ بات دو طریقوں سے بیان کی جاتی ہے۔ پہلے طریقہ یہ اختیار کیا گیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی تعریف کی گئی ہے اور یہ بتایا گیا ہے کہ حضور ﷺ اکرم اللہ کے ہاں کس قدر بلند مرتبہ ہیں اور دوسرا طریقہ یہ کہ براہ راست یہ کہا گیا کہ حضور اکرم کو ایذا دینے والے دراصل اللہ کو ایذا دیتے ہیں اور اس کی سزا اللہ کے ہاں یہ ہے کہ ان کو اللہ کی رحمت سے دور کردیا جاتا ہے اور وہ دنیا اور خرت میں محروم ہوں گے اور ان کو یہ عذاب دیا جائے گا۔