Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Al-Ahzab 33:8

33:8
ليسال الصادقين عن صدقهم واعد للكافرين عذابا اليما ٨
لِّيَسْـَٔلَ ٱلصَّـٰدِقِينَ عَن صِدْقِهِمْ ۚ وَأَعَدَّ لِلْكَـٰفِرِينَ عَذَابًا أَلِيمًۭا ٨
لِّيَسۡـَٔلَ
ٱلصَّٰدِقِينَ
عَن
صِدۡقِهِمۡۚ
وَأَعَدَّ
لِلۡكَٰفِرِينَ
عَذَابًا
أَلِيمٗا
٨
(これは主が)忠誠な者に,かれらの忠誠さを問われるためである。かれは不信心者たちのために,痛ましい懲罰を備えられる。

— Ryoichi Mita

Để Ngài hỏi những người chân thật (các vị Nabi, các vị Thiên Sứ) về sự trung thực của họ (trong việc rao truyền Bức Thông Điệp của Allah) và Ngài đã chuẩn bị cho những kẻ vô đức tin một sự trừng phạt đau đớn.

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 33:7 đến 33:8

واذ اخذنا من النبین ۔۔۔۔۔۔ للکفرین عذابا الیما (6 – 7) ” “۔ یہ وعدہ انوح (علیہ السلام) سے لے کر حضرت محمد ﷺ تک مسلسل لیا گیا۔ یہ واحد میثاق والا نظام ہے اور یہ واحد امانت ہے۔ ہر نبی اپنے ماقبل سے لیتا رہا اور آنے والے کو دیتا رہا۔

ابتدا میں تمام نبیوں کے بارے میں کہا گیا کہ ہم نے ان سے میثاق لیا اور اس کے بعد قرآن اور نبی ﷺ سے خصوصی طور پر تھا (ومنک) کیونکہ آپ خاتم النبین ہیں اور آپ کی دعوت عالمی ہے۔ اس کے بعد اولوالعزم رسولوں کے نام گنوائے ، نوح ، ابراہیم ، موسیٰ اور عیسیٰ (علیہم السلام) کا ذکر ہوا۔ اصحاب میثاق کے ذکر کے بعد اب یہ بیان کیا جاتا ہے کہ وہ عہد تھا کیا اور کیسا تھا تو وہ بہت پختہ عہد تھا ، بہت بھاری عہد تھا۔

میثاقا غلظیا (33: 7) پختہ عہد۔ اس میں لفظ میثاق کے لغوی معنے کی طرف اشارہ ہے۔ لغت میں میثاق بٹی ہوئی رسی کو کہتے ہیں۔ استعارہ کے طور پر عہد کے لیے استعمال کیا گیا۔ اس لفظ کے استعمال سے ایک معنوی مفہوم کو مجسم کرکے دکھانا مطلوب ہے تاکہ انسانی شعور اچھی طرح سمجھ لے کہ یہ کوئی پختہ اور اہم عہد تھا جو اس قدر بڑے بڑے پیغمبروں سے لیا گیا کہ وہ وحی وصول کریں ، اسکی تبلیغ کریں اور اس کے مطابق اسلامی نظام قائم کریں اور نہایت امانت اور استقامت کے ساتھ ، اس کی ذمہ داریاں برداشت کریں۔

لیسئل الصدقین عن صدقھم (33: 8) ” تاکہ اللہ سچے لوگوں سے ان کی سچائی کے بارے میں سوال کرے “۔ اور صادق اہل ایمان ہیں کیونکہ انہوں نے سچ کہا اور سچے عقیدے کو قبول کیا۔ ان کے سوا تمام دوسرے لوگ جھوٹے ہیں کیونکہ ان کے عقائد باطل ہیں اور ان کی باتیں باطل ہیں۔ لہٰذا تعبیر کا خاص مفہوم ہے۔ سچوں سے سوال ایسا ہی ہوگا جس طرح ایک لائق شاگرد سے استاد لوگوں کے سامنے مجلس یا تقریب میں یہ پوچھتا ہے کہ تم نے کتنے نمبر لیے اور کیسے جوابات دئیے اور یوں کامیابی حاصل کی۔ یہ سوال ان کی عزت افزائی کے لیے اعلانیہ تمام لوگوں کے سامنے ہوگا تاکہ تمام سننے والے بھی ان کی تعریف کریں۔ اسی طرح یوم الحشر میں اللہ صادقین سے سوال ان کی تکریم کے لیے کرے گا۔

اب دوسرے لوگ جنہوں نے باطل نظریات اپنائے اور جنہوں نے جھوٹے بول بولے حالانکہ ان کے سامنے اس کائنات کا بہت بڑا مسئلہ پیش کیا گیا تھا ، جس میں یا انہوں نے سچا کلمہ کہنا تھا یا جھوٹا ، ان سے سوال ہوگا اور ان کے لیے سزا بھی حاضر ہوگی اور وہ تیار کھڑی ہوگی۔

واعد للکفرین عذابا الیما (33: 8) ” اور کافروں کے لیے اس نے دردناک وذاب تیار کر رکھا ہے “۔