Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Al-An'am 6:114

6:114
افغير الله ابتغي حكما وهو الذي انزل اليكم الكتاب مفصلا والذين اتيناهم الكتاب يعلمون انه منزل من ربك بالحق فلا تكونن من الممترين ١١٤
أَفَغَيْرَ ٱللَّهِ أَبْتَغِى حَكَمًۭا وَهُوَ ٱلَّذِىٓ أَنزَلَ إِلَيْكُمُ ٱلْكِتَـٰبَ مُفَصَّلًۭا ۚ وَٱلَّذِينَ ءَاتَيْنَـٰهُمُ ٱلْكِتَـٰبَ يَعْلَمُونَ أَنَّهُۥ مُنَزَّلٌۭ مِّن رَّبِّكَ بِٱلْحَقِّ ۖ فَلَا تَكُونَنَّ مِنَ ٱلْمُمْتَرِينَ ١١٤
أَفَغَيۡرَ
ٱللَّهِ
أَبۡتَغِي
حَكَمٗا
وَهُوَ
ٱلَّذِيٓ
أَنزَلَ
إِلَيۡكُمُ
ٱلۡكِتَٰبَ
مُفَصَّلٗاۚ
وَٱلَّذِينَ
ءَاتَيۡنَٰهُمُ
ٱلۡكِتَٰبَ
يَعۡلَمُونَ
أَنَّهُۥ
مُنَزَّلٞ
مِّن
رَّبِّكَ
بِٱلۡحَقِّۖ
فَلَا
تَكُونَنَّ
مِنَ
ٱلۡمُمۡتَرِينَ
١١٤
(言ってやるがいい。)「どうしてわたしがアッラー以外に裁きを求めようか。かれこそは,詳細に説明された啓典を,あなたがたに下された方ではないか。」われが啓典を授けた程の者ならば,それがあなたの主から,真理によって下されたことを知っている。だからあなたは疑う 者の仲間になってはならない。

— Ryoichi Mita

(Hỡi Thiên Sứ, Ngươi hãy nói với những kẻ đa thần:) “Lẽ nào Ta lại phải tìm một giáo luật nào đó ngoài (giáo luật của) Allah để phân xử (giữa Ta và các ngươi) trong lúc Ngài là Đấng đã ban xuống cho các ngươi Kinh Sách (Qur’an) chứa đựng những lời giải thích cặn kẽ?” Những kẻ đã được TA ban cho Kinh Sách (Do Thái và Thiên Chúa) đều biết rõ rằng Nó (Qur’an) đích thực là (Kinh Sách) được ban xuống từ Thượng Đế của Ngươi, vì vậy, Ngươi chớ đừng là kẻ hoài nghi (về điều mà TA đã mặc khải cho Ngươi).

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 6:114 đến 6:115
اللہ کے فیصلے اٹل ہیں ٭٭

حکم ہوتا ہے کہ ” مشرک جو کہ اللہ کے سوا دوسروں کی پرستش کر رہے ہیں ان سے کہہ دیجئیے کہ کیا میں آپس میں فیصلہ کرنے والا بجز اللہ تعالیٰ کے کسی اور کو تلاش کروں؟ اسی نے صاف کھلے فیصلے کرنے والی کتاب نازل فرما دی ہے یہود و نصاری جو صاحب کتاب ہیں اور جن کے پاس اگلے نبیوں کی بشارتیں ہیں وہ بخوبی جانتے ہیں کہ یہ قرآن کریم اللہ کی طرف سے حق کے ساتھ نازل شدہ ہے تجھے شکی لوگوں میں نہ ملنا چاہیئے “ -

جیسے فرمان ہے «فَاِنْ كُنْتَ فِيْ شَكٍّ مِّمَّآ اَنْزَلْنَآ اِلَيْكَ فَسْــــَٔـلِ الَّذِيْنَ يَقْرَءُوْنَ الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكَ لَقَدْ جَاءَكَ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِيْنَ» [10-یونس:94] ‏ یعنی ” ہم نے جو کچھ وحی تیری طرف اتاری ہے اگر تجھے اس میں شک ہو تو جو لوگ اگلی کتابیں پڑھتے ہیں تو ان سے پوچھ لے یقین مان کہ تیرے رب کی جانب سے تیری طرف حق اتر چکا ہے پس تو شک کرنے والوں میں نہ ہو “ -

یہ شرط ہے اور شرط کا واقع ہونا کچھ ضروری نہیں اسی لیے مروی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہ میں شک کروں نہ کسی سے سوال کروں ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:17907:مرسل و ضعیف] ‏

” تیرے رب کی باتیں صداقت میں پوری ہیں، اس کا ہر حکم عدل ہے، وہ اپنے حکم میں بھی عادل ہے اور خبروں میں صادق ہے اور یہ خبر صداقت پر مبنی ہے، جو خبریں اس نے دی ہیں وہ بلاشبہ درست ہیں اور جو حکم فرمایا ہے وہ سراسر عدل ہے اور جس چیز سے روکا وہ یکسر باطل ہے کیونکہ وہ جس چیز سے روکتا ہے وہ برائی والی ہی ہوتی ہے “۔

جیسے فرمان ہے آیت «يَاْمُرُهُمْ بالْمَعْرُوْفِ وَيَنْهٰىهُمْ عَنِ الْمُنْكَرِ وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبٰتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ الْخَـبٰىِٕثَ وَيَضَعُ عَنْهُمْ اِصْرَهُمْ وَالْاَغْلٰلَ الَّتِيْ كَانَتْ عَلَيْهِمْ» [7-الأعراف:157] ‏ ” وہ انہیں بھلی باتوں کا حکم دیتا ہے اور بری باتوں سے روکتا ہے کوئی نہیں جو اس کے فرمان کو بدل سکے، اس کے حکم اٹل ہیں، دنیا میں کیا اور آخرت میں کیا اس کا کوئی حکم ٹل نہیں سکتا۔ اس کا تعاقب کوئی نہیں کر سکتا۔ وہ اپنے بندوں کی باتیں سنتا ہے اور ان کی حرکات سکنات کو بخوبی جانتا ہے۔ ہر عامل کو اس کے برے بھلے عمل کا بدلہ وہ ضرور دے گا “۔

صفحہ نمبر2735