Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Al-An'am 6:115

6:115
وتمت كلمت ربك صدقا وعدلا لا مبدل لكلماته وهو السميع العليم ١١٥
وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقًۭا وَعَدْلًۭا ۚ لَّا مُبَدِّلَ لِكَلِمَـٰتِهِۦ ۚ وَهُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلْعَلِيمُ ١١٥
وَتَمَّتۡ
كَلِمَتُ
رَبِّكَ
صِدۡقٗا
وَعَدۡلٗاۚ
لَّا
مُبَدِّلَ
لِكَلِمَٰتِهِۦۚ
وَهُوَ
ٱلسَّمِيعُ
ٱلۡعَلِيمُ
١١٥
あなたの主の言葉は,真実公正に完成された。誰もかれの言葉を変えることは出来ない。かれは全聴にして全知であられる。

— Ryoichi Mita

Lời phán của Thượng Đế của Ngươi (hỡi Thiên Sứ) đã hoàn tất trọn vẹn về chân lý và công lý. Không ai có thể thay đổi lời nói của Ngài. Và Ngài là Đấng Hằng Nghe, Đấng Hằng Biết.

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 6:114 đến 6:117

قرآن میں ذبیحہ کے احکام اترے اور یہ کہا گیا کہ مردہ جانور نہ کھاؤ، ذبح کیا ہوا کھاؤ تو کچھ لوگوں نے کہا مسلمانوں کا مذہب بھی عجیب ہے۔ وہ اپنے ہاتھ کا مارا ہوا جانور حلال سمجھتے ہیں اور جس کو اللہ نے مارا ہوا اس کو حرام بتاتے ہیں۔اس جملہ میں لفظی تک بندی کے سوا اور کوئی دلیل نہیں ہے۔ مگر بہت سے لوگ اس کو سن کر دھوکے میں آگئے اور اسلام کو شبہ کی نظر سے دیکھنے لگے۔ ایسا ہی ہمیشہ ہوتا ہے۔ ہر زمانہ میں ایسے لوگ کم ہوتے ہیں جو باتوںکو ان کی اصل حقیقت کے اعتبار سے سمجھتے ہوں۔ بیشتر لوگ الفاظ کے گورکھ دھندے میں گم رہتے ہیں۔ وہ خیالی باتوں کو حقیقی سمجھ لیتے ہیں، صرف اس لیے کہ ان کو خوبصورت الفاظ میں بیان کردیا گیا ہے۔

مگر یہ دنیا ایسی دنیا ہے جہاں تمام بنیادی حقیقتوں کے بارے میں خدا کے واضح بیانات آچکے ہیں۔ اس لیے یہاں کسی کے لیے اس قسم کی بے راہی میں پڑناقابل معافی نہیں ہوسکتا۔ خدا کا کلام ایک کھلی ہوئی کسوٹی ہے جس پر جانچ کر ہر آدمی معلوم کرسکتا ہے کہ اس کی بات محض ایک لفظی شعبدہ ہے یا کوئی واقعی حقیقت ہے۔ خدا نے ماضی، حال اور مستقبل کے تمام ضروری امور کی بابت سچا بیان دے دیا ہے۔ اس نے انسانی تعلقات کے تمام پہلوؤں کے بارے میں کامل انصاف کی راہ بتا دی ہے۔ آدمی اگر فی الواقع سنجیدہ ہو تو ا س کے لیے یہ جاننا کچھ بھی مشکل نہیں کہ حق کیا ہے اور نا حق کیا۔ اب اس کے بعد شبہ میں وہی پڑے گا جس کا حال یہ ہو کہ اس کی سوچ خدا کے کلام کے سوا دوسری چیزوں کے زیر اثر کام کرتی ہو۔ جو شخص اپنی سوچ کو خدائی حقیقتوں کے موافق بنا لے اس کے لیے یہاں فکری بے راہ روی کا کوئی امکان نہیں۔

اس خدائی وضاحت کے بعد بھی اگر آدمی بھٹکتا ہے تو خدا کو اس کا حال اچھی طرح معلوم ہے۔ وہ خوب جانتا ہے کہ وہ کون ہے جس نے اپنی بڑائی قائم رکھنے کی خاطر اپنے سے باہر ظاہر ہونے والی سچائی کو کوئی اہمیت نہ دی۔ کون ہے جس کے تعصب نے اس کو اس قابل نہ رکھا کہ وہ بات کو سمجھ سکے۔ کس نے سستی نمائش میں اپنی رغبت کی وجہ سے سچائی کی آواز پر دھیان نہیں دیا۔ کون ہے جو حسد کی نفسیات میں مبتلا ہونے کی وجہ سے حق سے نا آشنا رہا۔