Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Al-An'am 6:118

6:118
فكلوا مما ذكر اسم الله عليه ان كنتم باياته مومنين ١١٨
فَكُلُوا۟ مِمَّا ذُكِرَ ٱسْمُ ٱللَّهِ عَلَيْهِ إِن كُنتُم بِـَٔايَـٰتِهِۦ مُؤْمِنِينَ ١١٨
فَكُلُواْ
مِمَّا
ذُكِرَ
ٱسۡمُ
ٱللَّهِ
عَلَيۡهِ
إِن
كُنتُم
بِـَٔايَٰتِهِۦ
مُؤۡمِنِينَ
١١٨
だからあなたがたが,もしアッラーの啓示を信じるならば,かれの御名が唱えられたものを食べなさい。

— Ryoichi Mita

Bởi thế, các ngươi (hỡi nhân loại) hãy ăn thịt (những con vật) được nhân danh Allah (lúc cắt tiết) nếu như các ngươi thực sự có đức tin nơi các Lời Mặc Khải (của Ngài).

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 6:118 đến 6:121

دنیا میں جو کچھ ہے وہ سب ہمارے لیے ’’مالِ غیر‘‘ ہے۔ کیوں کہ سب کا سب خدا کا ہے۔ اس کو اپنے لیے جائز کرنے کی واحد صورت یہ ہے کہ اس کو خدا کے بتائے ہوئے طریقے سے حاصل کیا جائے اور اس کو خدا کے بتائے ہوئے طریقہ سے استعمال کیا جائے ۔ یہی معاملہ جانوروں کا بھی ہے۔

جانورہمارے لیے قیمتی خوراک ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ ان کو خوراک بنانے کا حق ہم کو کیسے ملا۔ جانور کو خدا بناتا ہے اور وہی اس کو پرورش کرکے تیار کرتا ہے۔ پھر ہمارے لیے کیسے جائز ہوا کہ ہم اس کو اپنی خوراک بنائیں۔ ذبح کے وقت اللہ کا نام لینا اسی سوال کا جواب ہے۔ اللہ کا نام لینا کوئی لفظی رسم نہیں۔ یہ دراصل جانور کے اوپر خدا کی مالکانہ حیثیت کو تسلیم کرنا اور اس کے عطیہ پر خدا کا شکر ادا کرنا ہے۔ ذبح کے وقت اللہ کا نام لینا اسی اعتراف وتشکر کی ایک علامت ہے اور یہی اعتراف وتشکر وہ ’’قیمت‘‘ ہے جس کو ادا کرنے سے مالک کے نزدیک اس کا ایک جانور ہمارے لیے حلال ہوجاتا ہے۔ تاہم جس کو اتفاقی مجبوری پیش آجائے اس کو اس پابندی سے آزاد کردیاگیا ہے۔

جب آدمی حرام وحلال اور جائز وناجائز میں خدا کا حکم چھوڑتا ہے تو اس کے بعد توہمات اس کی جگہ لے لیتے ہیں۔ لوگ توہماتی خیالات کی بنا پر اشیاء کے بارے میں طرح طرح کی رائیں قائم کرلیتے ہیں۔ ان توہمات کے پیچھے کچھ خود ساختہ فلسفے ہوتے ہیں اور ان کی بنیاد پر ان کے کچھ ظواہر قائم ہوتے ہیں۔ جو لوگ اللہ کے فرماں بردار بننا چاہیں ان کے لیے ضروری ہوتاہے کہ ان توہمات کو فکری اور عملی دونوں اعتبار سے مکمل طورپر چھوڑ دیں۔

کھانے پینے اور دوسرے امور میں ہر قوم کا ایک رواجی دین بن جاتا ہے۔ اس رواجی دین کے بارے میں لوگوں کے جذبات بہت شدید ہوتے ہیں۔ کیوں کہ اس کے حق میں اسلاف اور بزرگوں کی تصدیقات شامل رہتی ہیں۔ اس سے ہٹنا بزرگوں کے دین سے ہٹنے کے ہم معنی بن جاتا ہے۔ اس لیے جب حق کی دعوت اس رواجی دین سے ٹکراتی ہے تو حق کی دعوت کے خلاف طرح طرح کے اعتراضات كيے جاتے ہیں۔ وقت کے بڑے ایسی خوش کن باتیں نکالتے ہیں جن سے وہ اپنے عوام کو مطمئن کرسکیں کہ تمھارا رواجی دین صحیح اور یہ ’’نیا دین‘‘ بالکل باطل ہے۔ مگر اللہ ہر چیز سے باخبر ہے۔ قیامت میں جب وہ حقیقتوں کو کھولے گا تو ہر آدمی دیکھ لے گا کہ وہ حقیقت کی زمین پر کھڑا تھا یا توہمات کی زمین پر۔