Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Al-An'am 6:14

6:14
قل اغير الله اتخذ وليا فاطر السماوات والارض وهو يطعم ولا يطعم قل اني امرت ان اكون اول من اسلم ولا تكونن من المشركين ١٤
قُلْ أَغَيْرَ ٱللَّهِ أَتَّخِذُ وَلِيًّۭا فَاطِرِ ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ وَهُوَ يُطْعِمُ وَلَا يُطْعَمُ ۗ قُلْ إِنِّىٓ أُمِرْتُ أَنْ أَكُونَ أَوَّلَ مَنْ أَسْلَمَ ۖ وَلَا تَكُونَنَّ مِنَ ٱلْمُشْرِكِينَ ١٤
قُلۡ
أَغَيۡرَ
ٱللَّهِ
أَتَّخِذُ
وَلِيّٗا
فَاطِرِ
ٱلسَّمَٰوَٰتِ
وَٱلۡأَرۡضِ
وَهُوَ
يُطۡعِمُ
وَلَا
يُطۡعَمُۗ
قُلۡ
إِنِّيٓ
أُمِرۡتُ
أَنۡ
أَكُونَ
أَوَّلَ
مَنۡ
أَسۡلَمَۖ
وَلَا
تَكُونَنَّ
مِنَ
ٱلۡمُشۡرِكِينَ
١٤
言ってやるがいい。「わたしは,アッラー以外の加護をどうして求めるだろうか。かれは天と地の創造者で,(すべてを)養い,(誰からも)養われない」言ってやるがいい。「わたしは(かれに)服従,帰依する者の先き駆けとなり,『多神教徒の仲間となってはならない』と命じられた。」

— Ryoichi Mita

Ngươi (hỡi Thiên Sứ) hãy nói với (những kẻ đa thần): “Lẽ nào Ta lại chọn lấy ai khác ngoài Allah làm đấng bảo hộ trong khi Ngài là Đấng đã tạo hóa trời đất, là Đấng nuôi dưỡng (vạn vật) chứ không phải là vật được nuôi dưỡng?!" Ngươi hãy bảo: “Quả thật, Ta được lệnh phải là người đầu tiên thần phục (Allah) và không được trở thành kẻ đa thần.”

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 6:12 đến 6:16
ہر چیز کا مالک اللہ ہے ٭٭

آسمان و زمین اور جو کچھ ان میں ہے، سب اللہ کا ہے، اس نے اپنے نفس مقدس پر رحمت لکھ لی ہے۔ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو جب پیدا کیا تو ایک کتاب لکھی جو اس کے پاس اس کے عرش کے اوپر ہے کہ میری رحمت غضب پر غالب ہے ۔ [صحیح بخاری:3194] ‏

پھر اپنے پاک نفس کی قسم کھا کر فرماتا ہے کہ ” وہ اپنے بندوں کو قیامت کے دن ضرور جمع کرے گا اور وہ دن یقیناً آنے والا ہے شکی لوگ چاہے شک شبہ کریں لیکن وہ ساعت اٹل ہے “۔

حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا کہ کیا اس دن پانی بھی ہوگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس اللہ کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے اس دن پانی ہو گا، اولیاء اللہ ان ہوضوں پر آئیں گے جو انبیاء علیہم السلام کی ہوں گی۔ ان حوضوں کی نگہبانی کیلئے ایک ہزار فرشتے نور کی لکڑیاں لیے ہوئے مقرر ہوں گے جو کافروں کو وہاں سے ہٹا دیں گے ۔ [ضعیف] ‏ یہ حدیث ابن مردویہ میں ہے لیکن ہے غریب۔

صفحہ نمبر2542

ترمذی شریف کی حدیث میں ہے ہر نبی علیہ السلام کے لیے ہوض ہو گا مجھے امید ہے کہ سب سے زیادہ لوگ میرے حوض پر آئیں گے ۔ [سنن ترمذي:2443،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

جو لوگ اللہ پر ایمان نہیں رکھتے اور اس دن کو نہیں مانتے وہ اپنی جانوں سے خود ہی دشمنی رکھتے ہیں اور اپنا نقصان آپ ہی کرتے ہیں، زمین و آسمان کی ساکن چیزیں یعنی کل مخلوق اللہ کی ہی پیدا کردہ ہے اور سب اس کے ماتحت ہے، سب کا مالک وہی ہے، وہ سب کی باتیں سننے والا اور سب کی حرکتیں جاننے والا ہے، چھپا کھلا سب اس پر روشن ہے۔

صفحہ نمبر2543

پھر اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جنہیں توحید خالص کے ساتھ اور کامل شریعت کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے۔ حکم دیتا ہے کہ ” آپ صلی اللہ علیہ وسلم اعلان کر دیں کہ آسمان و زمین پیدا کرنے والے اللہ کے سوا میں کسی اور کو اپنا دوست و مددگار نہیں جانتا، وہ ساری مخلوق کا رازق ہے سب اس کے محتاج ہیں اور وہ سب سے بے نیاز ہے “۔

فرماتا ہے ” میں نے تمام انسانوں جنوں کو اپنی غلامی اور عبادت کیلئے پیدا کیا ہے “، ایک قرأت میں «وَلَا یَطْعَمُ» بھی ہے یعنی ” وہ خود نہیں کھاتا “۔

صفحہ نمبر2544

قباء کے رہنے والے ایک انصاری رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کی، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گئے، جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کھانا تناول فرما کر ہاتھ دھو چکے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کا شکر ہے جو سب کو کھلاتا ہے اور خود نہیں کھاتا، اس کے بہت بڑے احسان ہم پر ہیں کہ اس نے ہمیں ہدایت دی اور کھانے پینے کو دیا اور تمام بھلائیاں عطا فرمائیں اللہ کا شکر ہے جسے ہم پورا ادا کر ہی نہیں سکتے اور نہ اسے چھوڑ سکتے ہیں، ہم اس کی ناشکری نہیں کرتے، نہ اس سے کسی وقت ہم بے نیاز ہو سکتے ہیں، «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» اللہ نے ہمیں کھانا کھلایا، پانی پلایا، کپڑے پہنائے، گمراہی سے نکال کر رہ راست کھائی، اندھے پن سے ہٹا کر آنکھیں عطا فرمائیں اور اپنی بہت سی مخلوق پر ہمیں فضیلت عنایت فرمائی۔ اللہ ہی کے لیے سب تعریفیں مختص ہیں جو تمام جہان کا پالنہار ہے ۔ [نسائی فی السنن الکبری:10133/6:صحیح] ‏

پھر فرماتا ہے کہ ” اے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم ! اعلان کر دو کہ مجھے حکم ملا ہے کہ اس امت میں سب سے پہلے اللہ کا غلام میں بن جاؤں “۔ پھر فرماتا ہے ” خبردار ہرگز ہرگز مشرکوں سے نہ ملنا، یہ بھی اعلان کر دیجئیے کہ مجھے خوف ہے اگر میں اللہ کی نافرمانی کروں تو مجھے قیامت کے دن عذاب ہوں گے جو اس روز عذابوں سے محفوظ رکھا گیا یقین ماننا کہ اس پر رحمت رب نازل ہوئی، سچی کامیابی یہی ہے “

اور آیت میں فرمایا ہے «فَمَن زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَأُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ» [3-آل عمران:185] ‏ ” جو بھی جہنم سے ہٹا دیا گیا اور جنت میں پہنچا دیا گیا اس نے منہ مانگی مراد پالی “۔ «فَوْزٌ» کے معنی نفع مل جانے اور نقصان سے بچ جانے کے ہیں۔

صفحہ نمبر2545