Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Al-An'am 6:99

6:99
وهو الذي انزل من السماء ماء فاخرجنا به نبات كل شيء فاخرجنا منه خضرا نخرج منه حبا متراكبا ومن النخل من طلعها قنوان دانية وجنات من اعناب والزيتون والرمان مشتبها وغير متشابه انظروا الى ثمره اذا اثمر وينعه ان في ذالكم لايات لقوم يومنون ٩٩
وَهُوَ ٱلَّذِىٓ أَنزَلَ مِنَ ٱلسَّمَآءِ مَآءًۭ فَأَخْرَجْنَا بِهِۦ نَبَاتَ كُلِّ شَىْءٍۢ فَأَخْرَجْنَا مِنْهُ خَضِرًۭا نُّخْرِجُ مِنْهُ حَبًّۭا مُّتَرَاكِبًۭا وَمِنَ ٱلنَّخْلِ مِن طَلْعِهَا قِنْوَانٌۭ دَانِيَةٌۭ وَجَنَّـٰتٍۢ مِّنْ أَعْنَابٍۢ وَٱلزَّيْتُونَ وَٱلرُّمَّانَ مُشْتَبِهًۭا وَغَيْرَ مُتَشَـٰبِهٍ ۗ ٱنظُرُوٓا۟ إِلَىٰ ثَمَرِهِۦٓ إِذَآ أَثْمَرَ وَيَنْعِهِۦٓ ۚ إِنَّ فِى ذَٰلِكُمْ لَـَٔايَـٰتٍۢ لِّقَوْمٍۢ يُؤْمِنُونَ ٩٩
وَهُوَ
ٱلَّذِيٓ
أَنزَلَ
مِنَ
ٱلسَّمَآءِ
مَآءٗ
فَأَخۡرَجۡنَا
بِهِۦ
نَبَاتَ
كُلِّ
شَيۡءٖ
فَأَخۡرَجۡنَا
مِنۡهُ
خَضِرٗا
نُّخۡرِجُ
مِنۡهُ
حَبّٗا
مُّتَرَاكِبٗا
وَمِنَ
ٱلنَّخۡلِ
مِن
طَلۡعِهَا
قِنۡوَانٞ
دَانِيَةٞ
وَجَنَّٰتٖ
مِّنۡ
أَعۡنَابٖ
وَٱلزَّيۡتُونَ
وَٱلرُّمَّانَ
مُشۡتَبِهٗا
وَغَيۡرَ
مُتَشَٰبِهٍۗ
ٱنظُرُوٓاْ
إِلَىٰ
ثَمَرِهِۦٓ
إِذَآ
أَثۡمَرَ
وَيَنۡعِهِۦٓۚ
إِنَّ
فِي
ذَٰلِكُمۡ
لَأٓيَٰتٖ
لِّقَوۡمٖ
يُؤۡمِنُونَ
٩٩
かれこそは,雨を天から降らす方である。われはこれをもって凡てのもの(植物)の芽を萌え出させ,次に新緑(の群葉)を出させ,累々と穀物を実らせる。またナツメヤシの莢から,(重く)垂れ下がった房(を生え出させ),またブドウ,オリーブ,ザクロ等,同類異種の果樹(を育てる)。その果実が結び,そして成熟するのを観察しなさい。その中には本当に信仰する人々への印がある。

— Ryoichi Mita

Ngài là Đấng đã ban nước (mưa) từ trên trời xuống. (Với nước mưa đó), TA (Allah) cho mọc ra đủ loại cây cối và thảo mộc; cho mọc ra những cộng xanh trổ hạt kết chồng lên nhau (như bông lúa); (cho mọc ra cây chà là), từ thân và nhánh của nó trổ ra trái từng chùm cao thấp; và cho mọc ra những vườn nho, vườn ô liu, vườn lựu, (ô liu và lựu tuy lá) giống nhau nhưng (trái) lại khác nhau. Ngươi (hỡi Thiên Sứ) hãy nhìn ngắm trái quả của chúng lúc mới trổ và lúc chín mộng, quả thật trong sự việc đó là các dấu hiệu dành cho đám người có đức tin.

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 6:98 đến 6:99
قدرت کی نشانیاں ٭٭

فرماتا ہے کہ ” تم سب انسانوں کو اللہ تعالیٰ نے تن واحد یعنی آدم سے پیدا کیا ہے “ -جیسے اور آیت میں ہے «يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ» [4-النساء:1] ‏ ” لوگو اپنے اس رب سے ڈور جس نے تمہیں ایک نفس سے پیدا کی اسی سے اس کا جوڑ پیدا کیا پھر ان دونوں سے مرد و عورت خوب پھیلا دیئے “۔

«مُسْتَقَرٌّ» سے مراد ماں کا پیٹ اور «مُسْتَوْدَعٌ» سے مراد باپ کی پیٹھ ہے اور قول ہے کہ جائے قرار دنیا ہے اور سپردگی کی جگہ موت کا وقت ہے۔ سعید بن جبیر فرماتے ہیں ماں کا پیٹ، زمین اور جب مرتا ہے سب جائے قرار کی تفسیر ہے۔ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں جو مر گیا اس کے عمل رک گئے یہی مراد مستقر سے ہے۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے مستقر آخرت میں ہے لیکن پہلا قول ہی زیادہ ظاہر ہے، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر2705

سمجھداروں کے سامنے نشان ہائے قدرت بہت کچھ آچکے، اللہ کی بہت سی باتیں بیان ہو چکیں جو کافی وافی ہیں -وہی اللہ ہے جس نے آسمان سے پانی اتارا نہایت صحیح اندازے سے بڑا با برکت پانی جو بندوں کی زندگانی کا باعث بنا اور سارے جہاں پر اللہ کی رحمت بن کر برسا، اسی سے تمام تر تروتازہ چیزیں اگیں۔

جیسے فرمان ہے آیت «وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ اَفَلَا يُؤْمِنُوْنَ» [21-الأنبياء:30] ‏ ” پانی سے ہم نے ہر چیز کی زندگانی قائم کر دی۔ پھر اس سے سبزہ یعنی کھیتی اور درخت اگتے ہیں جس میں سے دانے اور پھل نکلتے ہیں، دانے بہت سارے ہوتے ہیں گتھے ہوئے تہ بہ تہ چڑھے ہوئے اور کھجور کے خوشے جو زمین کی طرف جھکے پڑتے ہیں۔ بعض درخت خرما چھوٹے ہوتے ہیں اور خوشے چمٹے ہوئے ہوتے ہیں “۔

«قِنْوَانٌ» کو قبیلہ تمیم «قِنْيَانٌ» کہتا ہے اس کا مفرد «قِنْوٍ» ہے، جیسے «صِنْوَانٌ» «صِنْوٍ» ‏ کی جمع ہے اور باغات انگوروں کے۔ پس عرب کے نزدیک یہی دنوں میوے سب میوں سے اعلیٰ ہیں کھجور اور انگور اور فی الحقیقت ہیں بھی یہ اسی درجے کے۔

قرآن کی دوسری آیت «وَمِنْ ثَمَرٰتِ النَّخِيْلِ وَالْاَعْنَابِ تَتَّخِذُوْنَ مِنْهُ سَكَرًا وَّرِزْقًا حَسَـنًا اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيَةً لِّقَوْمٍ يَّعْقِلُوْنَ» [16۔النحل:67] ‏ میں اللہ تعالیٰ نے ان ہی دونوں چیزوں کا ذکر فرما کر اپنا احسان بیان فرمایا ہے اس میں جو شراب بنانے کا ذکر ہے اس پر بعض حضرات کہتے ہیں کہ حرمت شراب کے نازل ہونے سے پہلے کی یہ آیت ہے۔

اور آیت میں بھی باغ کے ذکر میں فرمایا کہ «وَجَعَلْنَا فِيهَا جَنَّاتٍ مِّن نَّخِيلٍ وَأَعْنَابٍ» [36-يس:34] ‏ ” ہم نے اس میں کھجور و انگور کے درخت پیدا کئے تھے “۔ زیتون بھی ہیں انار بھی ہیں آپس میں ملتے جلتے پھل الگ الگ، شکل صورت مزہ حلاوت فوائد و غیرہ ہر ایک کے جدا گانہ، ان درختوں میں پھلوں کا آنا اور ان کا پکنا ملاحظہ کر اور اللہ کی ان قدرتوں کا نظارہ اپنی آنکھوں سے کرو کہ لکڑی میں میوہ نکالتا ہے۔ عدم وجود میں لاتا ہے۔ سوکھے کو گیلا کرتا ہے۔ مٹھاس لذت خوشبو سب کچھ پیدا کرتا ہے رنگ روپ شکل صورت دیتا ہے فوائد رکھتا ہے۔

جیسے اور جگہ فرمایا ہے کہ «وَفِي الْأَرْضِ قِطَعٌ مُّتَجَاوِرَاتٌ وَجَنَّاتٌ مِّنْ أَعْنَابٍ وَزَرْعٌ وَنَخِيلٌ صِنْوَانٌ وَغَيْرُ صِنْوَانٍ يُسْقَىٰ بِمَاءٍ وَاحِدٍ وَنُفَضِّلُ بَعْضَهَا عَلَىٰ بَعْضٍ فِي الْأُكُلِ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَعْقِلُونَ» [13-الرعد:4] ‏ ” پانی ایک زمین ایک کھیتیاں باغات ملے جلے لیکن ہم جسے چاہیں جب چاہیں بنا دیں کھٹاس مٹھاس کمی زیادتی سب ہمارے قبضہ میں ہے یہ سب خالق کی قدرت کی نشانیاں ہیں جن سے ایماندار اپنا عقیدہ مضبوط کرتے ہیں “۔

صفحہ نمبر2706