Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Al-Anbiya 21:22

21:22
لو كان فيهما الهة الا الله لفسدتا فسبحان الله رب العرش عما يصفون ٢٢
لَوْ كَانَ فِيهِمَآ ءَالِهَةٌ إِلَّا ٱللَّهُ لَفَسَدَتَا ۚ فَسُبْحَـٰنَ ٱللَّهِ رَبِّ ٱلْعَرْشِ عَمَّا يَصِفُونَ ٢٢
لَوۡ
كَانَ
فِيهِمَآ
ءَالِهَةٌ
إِلَّا
ٱللَّهُ
لَفَسَدَتَاۚ
فَسُبۡحَٰنَ
ٱللَّهِ
رَبِّ
ٱلۡعَرۡشِ
عَمَّا
يَصِفُونَ
٢٢
もし,その(天地の)間にアッラー以外の神々があったならば,それらはきっと混乱したであろう。それで玉座の主,かれらが唱えるものの上に(高くいます)アッラーを讃えなさい。

— Ryoichi Mita

Nếu trong các tầng trời và trái đất thực sự có những thần linh khác ngoài Allah thì các tầng trời và trái đất chắc chắn sẽ sụp đổ. Cho nên, Allah, Thượng Đế của Chiếc Ngai Vương, tối cao và trong sạch khỏi những điều mà họ đã mô tả (về Ngài).

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 21:21 đến 21:23
سب تہمتوں سے بلند اللہ جل شانہ ٭٭

شرک کی تردید ہو رہی ہے کہ ” جن جن کو تم اللہ کے سوا پوج رہے ہو، ان میں ایک بھی ایسا نہیں جو مردوں کو جلا سکے۔ کسی میں یا سب میں مل کر بھی یہ قدرت نہیں، پھر انہیں اس قدرت والے کے برابر ماننا یا ان کی بھی عبادت کرنا کس قدر ناانصافی ہے؟ “

پھر فرماتا ہے ” سنو! اگر یہ مان لیا جائے کہ فی الواقع بہت سے الہٰ ہیں تو لازم آئے گا کہ زمین و آسمان تباہ و برباد ہو جائیں “۔

جیسے فرمان ہے آیت «مَا اتَّخَذَ اللَّـهُ مِن وَلَدٍ وَمَا كَانَ مَعَهُ مِنْ إِلَـٰهٍ إِذًا لَّذَهَبَ كُلُّ إِلَـٰهٍ بِمَا خَلَقَ وَلَعَلَا بَعْضُهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ سُبْحَانَ اللَّـهِ عَمَّا يَصِفُونَ» [23-المؤمنون:91] ‏، ” اللہ کی اولاد نہیں، نہ اس کے ساتھ اور کوئی معبود ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو ہر معبود اپنی اپنی مخلوقات کو لیے پھرتا اور ایک دوسرے پر غالب آنے کی کوشش کرتا، اللہ تعالیٰ ان کے بیان کردہ اوصاف سے مبرا اور منزہ ہے “۔

صفحہ نمبر5399

یہاں فرمایا، ” اللہ تعالیٰ مالک عرش ان کے کہے ہوئے ردی اوصاف سے (‏یعنی لڑکے لڑکیوں سے) پاک ہے “۔ اسی طرح شریک اور ساجھی سے، مثل اور ساتھی سے بھی بلند و بالا ہے۔ ان کی یہ سب تہمتیں ہیں جن سے اللہ کی ذات برتر ہے۔ اس کی شان تو یہ ہے کہ وہ علی الاطلاق شہنشاہ حقیقی ہے، اس پر کوئی حاکم نہیں۔ سب اس کے غلبے اور قہر تلے ہیں۔ نہ تو اس کے حکم کا کوئی تعاقب کرسکے، نہ اس کے فرمان کو کوئی ٹال سکے۔ اس کی کبریائی اور عظمت و جلال اور حکومت، علم اور حکمت، لطف اور رحمت بے پایاں ہے۔ کسی کو اس کے آگے دم مارنے کی مجال نہیں۔ سب پست اور عاجز ہیں لاچار اور بے بس ہیں۔

کوئی نہیں جو چوں کرے، کوئی نہیں جو اس کے سامنے بول سکے، کوئی نہیں جسے چوں چرا کا اختیار ہو جو اس سے پوچھ سکے کہ یہ کام کیوں کیا؟ ایسا کیوں ہوا؟ وہ چونکہ تمام مخلوق کا خالق ہے، سب کا مالک ہے، اسے اختیار ہے جس سے جو چاہے سوال کرے، ہر ایک کے اعمال کی وہ بازپرس کرے گا۔ جیسے فرمان ہے آیت «فَوَرَبِّكَ لَنَسْأَلَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ عَمَّا كَانُوا يَعْمَلُونَ» [15-الحجر:92-93] ‏، ” تیرے رب کی قسم ہم ان سب سے سوال کریں گے ہر اس فعل سے جو انہوں نے کیا “۔ «وَهُوَ يُجِيرُ وَلَا يُجَارُ عَلَيْهِ» [23-المؤمنون:88] ‏ ” وہی ہے کہ جو اس کی پناہ میں آگیا، سب شر سے بچ گیا اور کوئی نہیں جو اس کے مجرم کو پناہ دے سکے “۔

صفحہ نمبر5400