Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Al-Anbiya 21:38

21:38
ويقولون متى هاذا الوعد ان كنتم صادقين ٣٨
وَيَقُولُونَ مَتَىٰ هَـٰذَا ٱلْوَعْدُ إِن كُنتُمْ صَـٰدِقِينَ ٣٨
وَيَقُولُونَ
مَتَىٰ
هَٰذَا
ٱلۡوَعۡدُ
إِن
كُنتُمۡ
صَٰدِقِينَ
٣٨
またかれらは,「あなたがたの言葉が真実なら,その約束は何時(来るの)か。」と言う。

— Ryoichi Mita

Họ (những kẻ vô đức tin) nói với (những người Muslim): “Bao giờ lời hứa này sẽ xảy ra nếu các người nói thật?”

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 21:37 đến 21:38

خلق الانسان۔۔۔۔۔ ان کنتم صدقین ”

انسان پیدا ہی جلد بازی سے کیا گیا ہے۔ عجلت اس کے مزاج اور اس کی تخلیق میں رکھی گئی ہے۔ وہ ہمیشہ اپنی نظریں اس پر لگائے رکھتا ہے کہ مستقبل کے پردے کے پیچھے سے کیا نمودار ہوتا ہے۔ یہ چاہتا ہے کہ مستقبل کے راز بھی یہ ہاتھ میں لے لے۔ وہ چاہتا ہے کہ اس کے تمام تاثرات حقیقت کا روپ اختیارکر لیں۔ وہ چاہتا ہے کہ اس کے ساتھ جو وعدے ہوتے ہیں وہ اس کے سامنے آجائیں اگرچہ انمیں اس کو تکلیف ہی ملے۔ یہ صورت حال تب بدلتی ہے جب انسان کا رابطہ اللہ کے ساتھ قائم ہوجائے۔ اس صورت میں اس کی زندگی میں ٹھہرائو آجاتا ہے۔ وہ مطمئن ہوجاتا ہے اور اپنے معاملات اللہ کے سپرد کردیتا ہے ‘ پھر جلد بازی نہیں کرتا۔ ایمان نام ہی یقین ‘ صبر اور اطمینان کا ہے۔

یہ مشرکین جو عذاب کے آنے کا مطالبہ کرتے ہیں اور کہتی ہیں کہ جلدی کیوں نہیں آتا ‘ یہ بھی پوچھتے ہیں کہ قیامت کب آئے گی یعنی عذاب آخرت کب ہوگا اور عذاب دنیا کب آئے گا جس سے تم ڈراتے ہو۔ اس موقع پر صرف عذاب آخرت کا ایک منظر ان کے سامنے پیش کردیا جاتا ہے اور ڈرایا جاتا ہے کہ تم سے قبل بھی کئی لوگوں نے اس قسم کا مذاق کیا تھا ‘ لیکن جب عذاب آیا تو وہ سامان عبرت بن گئے۔